تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 365
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1968ء غرض وعدے بھی بڑھانے ہیں اور ادائیگیاں بھی تیز کرنی ہیں۔تا کہ جو کام خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی کے ساتھ تحریک جدید کی قربانیوں کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ہو رہا ہے، وہ جاری رہ سکے اور ترقی کر سکے۔تحریک جدید کے کام نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔جب یہ کام شروع ہوا تھا تو سارا مالی بوجھ ہندوستان (اس وقت تقسیم ملک نہیں ہوئی تھی) کی جماعتوں پر تھا۔پھر بیرونی جماعتیں بڑھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی اخلاص اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا اور اس وقت وہ (غیر ممالک کے احمدی) پاکستان کے کل چندہ تحریک جدید سے آٹھ گنا زیادہ چندہ ادا کر رہے ہیں۔گویا پاکستان کی جماعتیں اخراجات ( جو بیرونی ملک میں ہورہے ہیں ) کا آٹھواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم ( شاید نواں حصہ) ادا کر رہی ہیں۔پھر اس رقم میں سے بھی کچھ رقم با ہر نہیں جاسکتی۔کیونکہ اس وقت فارن ایکس چینج پر پابندی لگی ہوئی ہے۔پھر یہاں کے اخراجات بھی ہیں۔مثلاً مبلغوں کی تربیت ہے، مبلغ پیدا کرنے ، یہاں کے کارکنوں کی تنخواہوں وغیرہ اور خط و کتابت پر بہت سے اخراجات یہاں کرنے پڑتے ہیں۔غرض ہمارا چندہ تحریک جدید کے کل چندہ کا کوئی آٹھواں یا نواں حصہ بنتا ہے۔اگر ہم اس کی ادائیگی میں بھی ستی کریں تو ہم سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو کیسے پورا کریں گے؟ حالات بدل رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔مثلاً آپ دیکھیں ، ایک ملک میں آپ نے کام کیا ، وہاں عیسائیت بڑے زوروں پر تھی اور وہ امید رکھتی تھی کہ عنقریب وہ سارا ملک عیسائی ہو جائے گا۔پھر ہمارے مبلغ خدا کی توفیق سے وہاں پہنچے اور خدا کی تو فیق ہی سے ان کاموں میں برکت پیدا ہوئی۔اور آج وہاں کے حالات بدلے ہوئے ہیں۔اور اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ ایک ملک سے (بہت سے خطوط آتے رہتے ہیں۔میں ایک مثال دے رہا ہوں۔) مجھے مطالبہ آیا کہ یہاں کے حالات کے لحاظ سے آپ فورا نو اور مبلغ ہمارے ہاں بھجوا دیں۔یہ افریقہ کا ایک ملک ہے اور لکھنے والے بھی افریقن احمدی ہیں۔غرض دنیا کے حالات بالکل بدل رہے ہیں۔اور جب حالات بدلے ہیں تو ہماری ضرورتیں بھی بدلیں گی۔مثلاً ایک ملک میں ہمارا ایک مبلغ گیا، اس نے کام کی ابتدا کی اور اس وقت وہ کام تھوڑا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور وہ پھیلا اور اب ہم الحمد للہ کہتے کہتے تھکتے ہیں اور اس کا وہ سزاوار ہے۔اور جب ہمارا کام پھیلا اور بڑھا تو ہمیں اور زیادہ روپیہ کی ضرورت ہوئی۔لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہم تو یہ ذمہ داریاں نبھانے کے لئے تیار نہیں تو یہ کئے کرائے پر پانی پھیر نے والی بات ہے۔اسی لئے خدائے قادر و توانا نے کہا ہے کہ کام تو نہیں رکے گا لیکن پھر مجھے خلق جدید کرنی پڑے گی۔365