تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 310

اقتباس از تقریر فرموده 21 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یه چند روزہ زندگی ہے۔بچے بسا اوقات گود میں ہی مرجاتے ہیں۔بعض اچھے مضبوط اور صحت والے جوان کسی حادثہ کے نتیجہ میں یا کسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ایک پل بھی بھروسہ نہیں ، جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال رہے۔جب تک وہ حی و قیوم خدا ہماری زندگی کو بقاد دینا چاہے، اس وقت تک ہم زندہ رہ سکتے ہیں۔اتنی بے اعتباری کی زندگی کی قربانی بھی کوئی قربانی ہے۔اگر ہم اس زندگی کی ہر خوشی کو، اگر ہم اس زندگی کی ہر مسرت کو ، اگر ہم اس زندگی کے ہر آرام کو ، اگر ہم دل کے ہر جذبہ کو، اگر ہم اپنے وقت کے ہر سیکنڈ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں تو یہ بھی اتنی حقیر قربانی ہے کہ اس کی حقارت کا بھی اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔اور اس کے مقابلے میں جو انعام اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے ، وہ اتنا عظیم ہے، وہ اتنا شاندار ہے کہ اس کی عظمت اور شان کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔تو کیا قربانی ہے، جو تم سے مانگی جارہی ہے اور کتنے بڑے فضل اور احسان ہیں، جن کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے؟ آج یہ عہد کرو کہ ہم نے اسلام کے غلبہ کے لئے ہر اس قربانی کو دے دینا ہے، خدا کی راہ میں، جس کا وقت اور اسلام ہم سے مطالبہ کرے۔اگر ہم آج یہ عہد کریں اور پھر اپنے عہدوں کو نبھا ئیں تو میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ عظیم اسلامی فتوحات ، جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ عنقریب اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔اور دنیا حیرت میں پڑ جائے گی کہ ایک غریب، ایک کمزور، ایک کم مایہ اور ایک چھوٹی سی جماعت ہے، کتنی حقیری قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں کس طرح اس دنیا میں بھی اس کو اپنے فضلوں اور انعاموں سے نوازا ہے۔( جو اس دنیا کے انعامات ہیں، ان کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ، اس وقت میں اس دنیا کے انعاموں کی بات کر رہا ہوں۔اگر آج بحیثیت جماعت ان قربانیوں کو دینے کے لئے تیار ہو جائیں، جن کا خدا آپ سے مطالبہ کر رہا ہے تو ہماری فتوحات کے دن یعنی اسلام کے غلبہ کے دن محمد رسول اللہ کی کامیابی کے دن اور ہمارے رب کی عظمت اور اس کی توحید اور اس کے جلال کے قیام کے دن بڑے ہی قریب آجائیں گے۔ہماری اپنی غفلتیں ، ہماری اپنی کوتاہیاں اور کمزوریاں ہمارے اور ہماری فتوحات اور اسلام کے غلبہ کے درمیان حائل ہیں۔غفلتوں کے ان پر دوں کو اب چیرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور گر جاؤ اور اپنی قربانی اس کے حضور پیش کر دو۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تم پر اور تمہاری نسلوں پر اس طرح نازل ہوں گی کہ تاریخ انسانی فخر کے ساتھ ان کو یا در کھے گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے۔خدا تعالیٰ کی رحمت آپ کے ہمیشہ شامل حال رہے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 27 جنوری 1968ء) 310