تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 309

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از تقریر فرموده 21 اکتوبر 1967ء چرچ کی ممبر شپ مل جاتی ہے۔اس چرچ کی ایک بلیٹن شائع ہوئی ہے، جس میں مسجد کے افتتاح کا ذکر ہے۔اور اس ذکر کو انہوں نے اس طرح شروع کیا ہے، کہ ایک عیسائی سے ایک پادری پوچھتا ہے۔Are you a Muslim without knowing it? کیا تم ایک مسلمان ہو اور تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم ایک مسلمان ہو؟ انہوں نے ایک نوٹ لکھا اور اس نوٹ میں یہ لکھا کہ ڈنمارک کے عوام بالکل وہی عقائد رکھتے ہیں، جو مسلمانوں کے ہیں۔فرق صاف یہ ہے کہ یہ لارڈ کہتے ہیں اور مسلمان اللہ کہتے ہیں۔مسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول اور خاتم النبیین یقین کرتے ہیں اور یہ حضرت مسیح " کو پرافٹ کہتے ہیں۔اس کے علاوہ اور کوئی فرق نہیں۔عقائد ان کے وہی ہیں ، جو مسلمانوں کے ہیں۔اب دیکھو ان لوگوں کے دلوں میں اسلامی عقائد جیسے عقائد پیدا ہو جانا اور ان کے سٹیٹ چرچ کا اس بات کے اظہار پر مجبور ہو جانا کہ ان لوگوں کے دلوں میں یہ عقائد ہیں اور یہ مسلمانوں کے عقائد ہیں، یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی کوششوں کی قبولیت پر بھی ایک دلیل بنتی ہے۔کیونکہ آج سے پہلے بھی وہ لکھ سکتے تھے۔لیکن جہاں مسجد نصرت جہاں کا افتتاح ہوا، ایسے خیالات ابھر نے شروع ہو گئے اور سٹیٹ چرچ کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ڈنمارک کے عوام کے عقائد وہی ہیں، جو مسلمانوں کے ہیں۔اس بلیٹن نے یہاں تک لکھا ہے کہ ڈنمارک عوام اور مسلمانوں کے عقائد آپس میں اس طرح ملتے ہیں ، جیسے پانی کے دو قطرے ملتے ہیں۔like two drops of water۔وہ اتنے Identecal ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس اظہار میں ایک گھبراہٹ بھی پائی جاتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اور اس میں شکست کا اعتراف بھی پایا جاتا ہے۔انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب ہم اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے مسجد نصرت جہاں کو بڑی اہمیت دے دی ہے۔اور بڑی اہم ذمہ داریوں کی طرف آپ کو متوجہ کر رہا ہے۔اور اس کا ایک عاجز بندہ یعنی میں، آج آپ کو اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اور ان ذمہ داریوں میں سب سے پہلی ذمہ داری قرآن کریم کو سمجھنا اور قرآن کریم کو جاننا ، قرآن کریم پر فکر اور تدبر کرنا، قرآن کریم نے جو ہدایات دی ہیں، ان پر عمل کرنا ، قرآن کریم نے جو معاشرہ پیدا کرنا چاہا ہے، اس معاشرہ کو اپنے ماحول میں پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ جتنی ذمہ داریاں قرآن کریم کے پڑھنے کے متعلق یا پڑھنے کے نتیجہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں ، ان سب کو ادا کرنا آپ کا فرض ہے۔309