تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 306
اقتباس از تقریر فرموده 21 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کرے گا اور تمام ادیان باطلہ کے جھوٹ اور سحر کو تو ڑ کر رکھ دے گا۔اور ہر انسانی دل محمد رسول اللہ کی محبت میں دھڑ کنے لگے گا اور اپنے پیدا کرنے والے کو پہچان لے گا۔لیکن ان کی راہ میں ایک خطر ناک تباہی حائل ہے۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے پیش گوئی فرمائی ہے۔جس کا ذکر میں نے اپنے ایک مضمون میں بھی کیا تھا، جو کل میں نے خطبہ جمعہ میں بھی پڑھا تھا۔اس مضمون میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس پیش گوئی کو بیان کیا گیا ہے۔وہاں کے حالات نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی کوششوں کو قبول فرمالیا ہے۔اس لئے میں، جو اس کا ایک عاجز بندہ ہوں ، خلیفہ وقت کی حیثیت سے آپ سب بہنوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔جب کسی شخص یا کسی جماعت کی قربانی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو یا اس فرد کومزید قربانیوں کی توفیق بھی دیتا ہے۔بس دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی ان تمام قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے ، جو آج وقت کا تقاضہ اور اسلام کی ضرورت ہے۔اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس دعا کو قبول کرے گا اور آپ کو دنیا کے لئے ایک نمونہ بنادے گا“۔کل جمعہ کے خطبہ میں جو مضمون میں نے پڑھا تھا، وہ آپ میں سے بہتوں نے سنا ہو گا۔دنیا کے قریباً ہر ملک سے جہاں وہ پہنچا ہے، اس کا مطالبہ آرہا ہے۔گیمبیا کے گورنر جنرل کو جب ریویو آف ریلیجینز ( جو وہاں مبلغ انچارج کو بھیجا گیا تھا۔) کا پرچہ ہمارے مبلغ انچارچ نے اس نوٹ کے ساتھ بھیجا کہ یہ ایک ہی پرچہ میرے پاس ہے اور اس کی مجھے ضرورت ہے، اس لئے پڑھ کر اسے کل ہی واپس کر دیں۔تو انہوں نے کہا کہ میں اسے کل واپس نہیں کر سکتا، مجھے آپ اجازت دیں کہ میں اسے ایک ہفتہ تک اپنے پاس رکھوں۔کیونکہ میں اسے اپنے دوستوں کو پڑھانا چاہتا ہوں۔اللہ تعالی نے انہیں بہت اخلاص دیا ہے، وہ جب مبلغ کو مخاطب کرتے ہیں تو بڑے ادب سے کرتے ہیں۔اب ان کا خط آیا کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اور رسالے منگوا کر دو یا یہ مضمون علیحدہ طور پر چھپا ہے تو وہ مجھے منگوا کر دو۔میں اسے اپنے دوستوں کو پڑھانا چاہتا ہوں۔مجھے بھی ان کا ایک خط آیا ہے۔ان کا تاثر ہے کہ جس شخص کے دماغ میں ذرا بھی عقل ہوگی، یہ مضمون پڑھ کر اسلام کو قبول کرلے گا۔اللہ تعالیٰ دنیا پر رحم کرے۔بہر حال ان کا یہ تاثر تھا۔اسی طرح پرسوں ہی امام کمال یوسف کا خط آیا ہے کہ احمدی، غیر احمدی اور عیسائی، جنہوں نے یہ مضمون پڑھا ہے۔(لنڈن میں پچاس ہزار کی تعداد میں یہ مضمون چھپ گیا اور ڈنمارک میں بھی اس کی کچھ کا پیاں بھیجی گئی تھیں۔) ان کا یہ مطالبہ ہے کہ ڈینیش زبان میں اس کا ترجمہ کریں۔اور سارے ملک میں 306