تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 224
تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بے چارے بچوں نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھ نہیں سکتے اور تکلیف اٹھا ر رہے ہیں؟ لیکن وہ دوست اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے۔کیونکہ محبت کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ بچے اگر تکلیف اٹھا لیں تو کوئی حرج نہیں لیکن ہم بہر حال آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔اور جس محبت کو میں نے ان کے سینوں میں محسوس کیا اور اپنے سینہ میں پایا، وہ تو الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر فدائیت اور ایثار کی روح عطا کی ہے اور قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں اس قدر ہے کہ جس وقت میں نے اپنا مضمون پڑھا (جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ) تو میں نے کہا کہ اندازہ لگائیں کہ اس پر کیا لا گت آئے گی تا اسے شائع کیا جائے؟ اگلے دن امام رفیق نے مجھے بتایا کہ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر اسے پچاس ہزار کی تعداد میں شائع کیا جائے تو اس پر ڈیڑھ سو پونڈ یعنی قریباً 3000 روپیہ خرچ آئے گا۔میں نے کہا، اگر آپ کے پاس رقم نہیں تو میں اس کا انتظام کر دیتا ہوں، آپ اس مضمون کو شائع کر دیں۔تو وہ مسکرا کے کہنے لگے کہ اس قدر تم تو جمع ہو گئی ہے۔چنانچہ وہ مضمون وہاں شائع ہو چکا ہے اور انگلستان کے ہر بشپ اور بڑے پادری کو بھیج دیا گیا ہے۔انگلستان کے سارے ہیڈ ماسٹروں کے پاس بھیج دیا کیا ہے۔پارلیمنٹ کے سارے ممبروں کے پاس اسے بھیج دیا گیا۔شاہی خاندان کے تمام افراد کے پاس وہ بھیج دیا گیا ہے۔اسی طرح لارڈز کے پاس بھی وہ بھیج دیا گیا ہے۔غرض وہاں کے دوست یہ مضمون چھ سات ہزار پتوں پر روانہ کر چکے ہیں۔میں نے انہیں ہدایت دی ہے کہ ایک تعداد اس کی دوسرے مشعوں کو بھجوائی جائے۔اس ہدایت پر عمل کرنے کے بعد جو قریباً پندرہ ہزار کا پیاں ان کے پاس بچ جائیں گی ، ان کے متعلق ان کی رپورٹ ہے کہ ہم ایک منصوبہ بنا کر یہ تعداد ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچائیں گے، جن کے متعلق ہم سمجھیں گے، انہیں اس سے فائدہ ہوگا۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ہاتھوں میں یہ مضمون پہنچانا بھی بڑی قربانی مانگتا ہے۔اور جماعت کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے یہ قربانی دی۔لندن میں جلسہ سالانہ کے موقع پر اردو میں تقریر کرتے ہوئے میں نے ایک فقرہ کہا تھا، جو غالباً واضح نہیں تھا۔مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔میں نے وہاں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے بعد انگلستان کی جماعت، سب سے بڑی جماعت ہے۔دراصل میرا اس فقرہ سے یہ مطلب تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے بعد انگلستان کی جماعت اردو بولنے والی سب سے بڑی جماعت ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں چندہ دہندگان کی تعداد قریب قریباً پاکستان کے چندہ دہندگان کے برابر پہنچی ہوئی ہے۔224