تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 223
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء ہمیشہ اسلام کے ساتھ لگا رہا ہے۔اور قرآن کریم نے ہمیں ان کے متعلق یہی ہدایت کی ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ دلوں کو بدلنے والا ہے، دعا کے نتیجہ میں ان میں سے بہتوں کے دل بدل جائیں گے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو شخص پہلے منافق ہوتا ہے، وہ بعد میں ایسا مومن بن جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کے اندر یہ تبدیلی کیسے پیدا ہو گئی ؟ سوائے اس کے کہ کسی وجود کی وجہ سے جماعت میں فتنہ پیدا ہوتا ہو اور جماعت کے مفاد میں ہو کہ اس عضو کو کاٹ دیا جائے۔اور یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔اس سے ورے اگر کسی شخص میں کمزوری ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ منافق ہے اور ہمیں اس سے پیار نہیں کرنا چاہیے۔ہمیں اس کی اصلاح کی ہر وقت کوشش کرنی چاہیے۔1947ء سے پہلے ہم بعض نوجوانوں کو کمزور سمجھا کرتے تھے اور ہر وقت ان کی اصلاح کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔پیار سے بھی اور بعض دفعہ سختی سے بھی۔لیکن جب 1947ء میں جان دینے کا وقت آیا تو وہی ہمارے پیارے نوجوان تھے، جنہوں نے ہتھیلیوں پر اپنی جانوں کو رکھا اور ایسی شاندار قربانیاں دیں کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔میں بطور مثال یہ بتا رہا ہوں کہ دیکھو، یہ لوگ، جن کے متعلق ہم ہر وقت یہ سمجھتے تھے کہ یہ منافق ہیں اور ہمیں ہر وقت یہ فکر رہتی تھی کہ ہم ان کی کمزوریوں کو دور کریں لیکن ان کے اندر ایمان موجود تھا۔اس لئے جب جان دینے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ کی۔منافق ایسا نہیں ہوتا۔منافق کی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وہ ایسے وقت میں پیچھے ہٹ جاتا ہے۔لیکن جو بظاہر کمزور ایمان والا ہے، وہ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے توفیق پاتا ہے کہ اپنے چھپے ہوئے ایمان کو ظاہر کرے اور دنیا کو یہ بتائے کہ الہی سلسلہ کا کمزور ایمان والا ، دوسروں کے اچھے اچھوں سے بھی کہیں اوپر اور بلند ہے۔وہ رفعت کا مقام رکھنے والا ہے۔غرض اس دوڑ میں تربیتی امور کی طرف بھی میں نے پوری توجہ دی۔رات کے ساڑھے بارہ ایک اور بعض دفعہ دو بج جاتے تھے اور میں اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتا رہتا تھا۔میں تو اس کے بعد او پر چلا جاتا تھا اور آرام کر لیتا تھا لیکن ان میں سے بہت سے ایسے تھے، جنہوں نے ایک گھنٹہ یا اس سے زائد سفر کر کے اپنے گھروں میں پہنچنا ہوتا تھا۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ بعض دوست ایسے بھی ہیں، جو اپنے بچوں کو گھروں میں نہیں چھوڑ سکتے۔پانچ پانچ ، سات سات یا نونو سال کے بچے ان کے ساتھ آتے تھے۔میں نے کہا، میں بھی خوش ہوں اور تم بھی خوش ہو اور ان بچوں کی مائیں بھی بڑی خوش ہیں لیکن ان 223