تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 190 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 190

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دے دیا۔ہمیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ اس قسم کا نوٹ اخبار میں آجائے گا۔ٹائمز کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اگر اس میں کوئی چیز چھپ جائے تو اس کے متعلق یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ انگلستان کے سارے پریس میں وہ چیز آگئی۔بہر حال وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اعلائے کلمتہ اللہ کے سامان پیدا کر دیئے۔پھر کراچی میں انٹرویو ہوا۔یہ لوگ اپنے رنگ کے ہیں۔یہ لوگ بار بار مجھ سے سیاسی سوال کر دیتے تھے اور بار بار مجھے یہ کہنا پڑتا تھا کہ میں کسی سیاسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ویسے سب ہی اچھے تھے۔انہیں یہی اچھا معلوم ہوتا تھا کہ میں ان سے سیاسی گفتگو کروں۔ہر ایک کا اپنا اپنا خیال ہوتا ہے لیکن یہاں بھی اخبارات میں اچھے نوٹ آگئے تھے۔ان پر یس کا نفرنسز سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہ تھی۔میں نے صرف یہی مقصد اپنے سامنے رکھا تھا کہ ان لوگوں کو جنجھوڑا جائے اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کا آسمانوں پر جو فیصلہ ہو چکا ہے، اس حقیقت کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے۔اور یہ غرض اخباروں کے تعاون سے پوری ہوگئی اور یہ مقصد ہمیں حاصل ہو گیا۔ساری قوم کو انتباہ کر دیا گیا۔اس لحاظ سے کہ اکثریت کے کانوں میں یہ آواز پہنچ گئی اور یہ بات ان کے ذہن نشین کر دی گئی کہ ہمیں ایک انتباہ دیا گیا ہے اور ایک وارننگ دینے والے نے ہمیں وارنگ دے دی ہے۔جس تیز مضمون کے متعلق میں نے پہلے بیان کیا ہے، اس کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم لندن گئے تو ہمیں ایک ری سپیشن دی گئی، جس میں تین سو آدمیوں نے شامل ہونا تھا۔گو یہ ری سپشن جماعت کی طرف سے تھی لیکن اس میں اس علاقہ کے میر بھی مدعو تھے، جس میں ہماری مسجد ہے۔ایک ایم پی تھے ، پاکستان ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ تھے اور بعض دوسرے انگریز بھی تھے اور یہ سب کوئی تھیں، چالیس آدمی تھے۔میں نے سوچا کہ میں نے اپنی محنت سے یہ مضمون تیار نہیں کیا بلکہ یہ آمد تھی اور میرے رب کی عطا، اس لیے اس کا جو مقصد تھا، وہ پورا ہونا چاہئے۔اور یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں یہ مقصد پورا ہوسکتا ہے۔اس کے بعد مجھے کوئی اور موقع نہیں ملے گا۔چنانچہ میں نے محترمی مخدومی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ آپ اسے پڑھیں اور مجھے مشورہ دیں کہ آیاری سپشن کے بعد میں یہ تقریر کروں یا نہ کروں؟ میں نے انہیں اس کا پس منظر بھی بتایا۔اگلے دن صبح ان کا پیغام مجھے آیا ، آپ یہ تقریر ضرور کریں۔تقریر کے انگریزی ترجمہ کے فقرات میں بعض جگہ انہوں نے لفظی اصلاح بھی کی۔انگریزوں کا طریق تھا کہ وہ ڈنر کے بعد ہلکی پھلکی تقریریں کرتے ہیں اور وہ تین تین، چار چار منٹ کی ہوتی ہیں۔یہی کہ ایک دو لطیفے سنا دیے اور بیچ میں کوئی کام کی بات کہہ دی۔میں اس بات کی وجہ سے بڑا پریشان تھا کیونکہ مجھ سے 190