تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 191

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 125 اگست 1967ء پہلے چار تقریریں تھیں، سب سے پہلے میر کھڑا ہوا اور اس نے پاکستان کی بھی اور جماعت کی بھی بڑی تعریف کی اور تین، چار منٹ کے بعد وہ بیٹھ گیا۔اس کے بعد ایم پی کھڑا ہوا ، ان کی طبیعت میں مزاح تھا، انہوں نے ایک دو لطیفے سنائے اور خوب ہنسایا۔پھر پاکستان ایسوسی ایشن کا پریذیڈنٹ کھڑا ہوا اور اس نے اپنے لحاظ سے کچھ سنجیدہ اور کچھ ہلکی پھلکی تقریر کی۔آخر میں (مجھ سے پہلے ) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تھے، وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے ایک دو فقروں کے بعد میرے متعلق کہا کہ انہوں نے اس وقت بعض بڑی اہم باتیں کرنی ہیں ، اس لئے میں زیادہ وقت نہیں لیتا۔گویا انہوں نے میرے پیغام کا تعارف بھی کرا دیا اور وہ سارے اس بات کے لئے تیار ہو گئے کہ کوئی اہم پیغام آنے والا ہے۔میرے ذہن سے بوجھ اتر گیا اور میں نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔45 منٹ میں وہ مضمون ختم ہوا۔اس سارے عرصہ میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سامعین مسحور ہیں۔کوئی آواز وہاں پیدا نہ ہوئی۔بعد میں احمدیوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں پسینے آ رہے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بڑا تیز مضمون تھا۔لیکن وہ مضمون میرا نہیں تھا۔یہ نہیں تھا کہ میں نے سوچ کر اور عقل پر زور دے کر اسے بنایا ہو۔بلکہ جب میں لکھنے لگا تو مضمون ذہن میں آتا گیا اور میں لکھتا گیا۔ایک احمدی کہنے لگا کہ میرے ساتھ ایک انگریز بیٹھا ہوا تھا، جب آپ نے مضمون پڑھنا شروع کیا تو اس نے حیرانی سے منہ کھولا اور پھر 45 منٹ تک اس کا منہ کھلا ہی رہا۔جس وقت میں نے مضمون ختم کیا اور سلام کیا ، اس وقت شاید کوئی چیونٹی بھی چلتی تو مجھے آواز آجاتی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا سارے سٹنڈ (Stunned) ہو گئے ہیں، اپنے بھی اور پرائے بھی۔اس خاموشی کی حالت میں، میں نے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔جب تک میں ہال سے باہر نہیں نکلا، میرے کان میں کوئی آواز نہیں پڑی۔علاقہ کے میئر میرے ساتھ تھے ، وہ بڑے عقل مند آدمی تھے۔ہمارے احمدیوں کو یہ خیال نہ آیا کہ میں اکیلا با ہر نکل گیا ہوں ، وہ سارے وہیں بیٹھے رہے تھے۔انہیں یہ بھی خیال نہ آیا کہ یہا کیلئے موٹر میں کیسے چلے جائیں گے؟ وہاں موٹر ڈرائیور بھی نہیں تھا۔میئر مجھے کہنے لگا، آپ تھکے ہوئے ہوں گے ، ادھر آئیں ، ہم ذرا یہاں بیٹھتے ہیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔ہال او پر تھا، ہم سیڑھیوں سے نیچے اتر کے نیچے کے کمرے میں چلے گئے اور وہاں کھڑے کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے۔وہاں وہ ایم پی بھی آگئے۔وہ کہنے لگے، مجھے امید ہے کہ جس تباہی کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس کی پیشگوئی ہمارے حق میں پوری نہیں ہوگی۔قبل اس کے کہ میں اس کا کوئی جواب دیتا، میئر نے کہا کہ ان کی تقریر کا خلاصہ تو یہ ہے کہ ایک تو دنیا میں امن ہونا چاہئے اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہئے۔جب اس نے اس رنگ میں جواب دیا تو وہ خاموش اور سنجیدہ ہو 191