تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 185
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 25 اگست 1967ء پلہ ہیں۔باقی سارے اخبار مقامی ہیں۔بہر حال ہیمبرگ میں چار روزانہ اخبار ہیں، جن میں سے تین صبح کو چھپتے ہیں اور ایک شام کو چھپتا ہے۔جو اخبار صبح کو چھپتے ہیں، ان میں سے ایک ان دو اخبارات میں سے ہے، جو صرف جرمنی میں ہی نہیں پڑھے جاتے بلکہ ساری دنیا میں ، جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے، پڑھے جاتے ہیں۔اور یہ اطلاع مجھے کراچی میں پریس میں کام کرنے والے ایک غیر احمدی دوست نے دی۔جب میں نے اخبار کا نام لیا ڈی ویلٹ تو اس نے کہا، اچھا یہ اخبار ہے، یہ تو ساری دنیا میں جاتا ہے۔اور جرمنی کے دو بڑے اخباروں میں سے ایک ہے۔اس کے علاوہ تین اور اخبار ہیں اور وہ اپنے علاقہ میں پڑھے جاتے ہیں۔گویا صرف چار اخبار ہیں۔باقی نیوز ایجنسیز جیسے ہمارے ہاں اے پی پی وغیرہ ہے۔پھر ریڈیو ہے وغیرہ وغیرہ۔ہمارے مبلغوں کا اثر ورسوخ ہے، حکومت سے بھی ان کے تعلقات ہیں۔محکمہ اطلاعات و انفارمیشن کو جب پریس کانفرنس کے متعلق علم ہوا تو انہیں خیال آیا کہ کہیں یہ مایوس نہ ہو جائیں۔چنانچہ انہوں نے فون کر کے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ہم پر یس کا نفرنس بلاتے ہیں، بڑا زور لگاتے ہیں، روپیہ خرچ کرتے ہیں ، تب جا کر کہیں سات آٹھ یا نو نمائندے آتے ہیں۔اگر آپ کی پریس کانفرنس میں تھوڑے نمائندے ہوں تو آپ مایوس نہ ہوں۔ہمارے ملک کا یہی طریق ہے۔خیر انہوں نے وارننگ دی اور وارنگ بھی اپنی محبت اور تعلق کی وجہ سے دی۔تا کہ ہم مایوس نہ ہو جائیں۔وہاں ایک اٹلانٹک ہوٹل ہے، جس میں یہ پریس کا نفرنس ہوئی۔میں جب وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں 35 نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ان چاروں اخباروں کے نمائندے تھے، ہفتہ وار اخباروں کے نمائندے تھے، دونما ئندے ریڈیو کے تھے۔(وہاں دو مختلف ریڈیو پروگرام ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے علیحدہ علیحدہ اپنی انڈی پینڈنٹ ٹیم بھیجی ہوئی تھی۔) نیوز ایجنسیز کے نمائندے تھے ، پھر وہاں رواج ہے کہ فوٹو گراف مہیا کرنے والی بھی انڈی پینڈنٹ ایجنسیاں ہیں۔وہ فوٹو لے لیتی ہیں اور ہر اخبار کو بھیج دیتی ہیں اور کہلا بھیجتی ہیں، اگر تم نے اس واقعہ کے متعلق کوئی نوٹ دینا ہوتو یہ تصویریں ہیں تم ان میں سے کوئی ایک یا دو منتخب کر لو اور اس کے وہ پیسے لے لیتی ہیں۔یہ ان کے کمانے کا ایک ذریعہ ہے۔اخبار کو اپنے علیحدہ فوٹوگرافر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بہر حال وہاں یہ سٹم ہے۔اور ان فوٹو لینے والی ایجنسیوں کے نمائندے بھی وہاں موجود ہوتے تھے۔کل نمائندے 35 تھے اور ایک گھنٹہ، پچیس منٹ تک ہم باتیں کرتے رہے۔وہ اٹھنے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔میں خود کھڑا ہو گیا اور کہا ، اب ہم اس پر یس کا نفرنس کو ختم کرتے ہیں۔185