تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 184

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اختلاف ہے لیکن میں اس وقت اس اختلاف کو چھوڑتا ہوں ، تمہارے خیال میں جتنے سال مسیح علیہ السلام اس دنیا میں زندہ رہے، اس ساری عمر میں انہوں نے جتنے عیسائی بنائے تھے ، ان سے زیادہ اس ملک میں ہم نے مسلمان بنائے ہیں۔اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ دوسرے نمائندے تو سوال کرتے رہے لیکن وہ خاموش رہا۔تمہیں، چالیس منٹ کے بعد میں نے اس کی طرف توجہ کی اور کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم نے مجھ میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے لیکن میری تم میں دلچسپی ابھی تک قائم ہے۔تم سوال کرو، میں اس کا جواب دوں گا۔خیر اس کے بعد اس نے بعض سوال کئے اور میں نے ان کا جواب دیا۔زیورک میں تو میں پریس کانفرنس کے بعد وہیں ٹھہرا رہا لیکن ہیگ میں ، میں پریس کانفرنس کے معاً بعد اس جگہ کو چھوڑ کر اپنے کمرہ میں چلا گیا تھا۔اور وہ نوجوان قریباً ایک گھنٹہ تک دوستوں سے گفتگو کرتا رہا۔اس نے قیمتاً ہمارا لٹریچر بھی خریدا اور کہنے لگا، میں اسے ضرور پڑھوں گا۔غرض اس پر اتنا اثر تھا۔وہاں کے سارے اخباروں نے صرف یہ خبر ہی شائع نہیں کی تھی کہ ہم اس ملک میں آئے ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ کہتے ہیں، اسلام لاؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔اور دراصل یہی بات ان دو غرضوں میں سے ایک تھی، جن کے لئے میں وہاں گیا تھا۔مجھے سے وہ جو باتیں کرتے ، ان کو بھی شائع کرتے۔اور ساتھ ہی ہماری تصویریں بھی شائع کرتے۔لیکن اگر وہ صرف میری تصویر شائع کرتے تو اس میں میری کوئی عزت افزائی نہیں تھی۔جس کو خدا تعالیٰ نے عزت دی ہو ، وہ دنیا کی عزتوں کی کیا پرواہ کرتا ہے؟ میرے وہاں جانے کی جو اصل غرض تھی ، وہ پوری ہونی چاہئے تھی۔میں نے ان کو جو انتباہ دینا تھا، وہ ہر ایک کے پاس پہنچنا چاہئے تھا۔اور مجھے خوشی اس بات سے ہوئی تھی کہ انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ میرا پیغام یہ ہے کہ دور استے تمہارے لئے کھلے ہیں۔یا تو تم اسلام لا و یا تباہ ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔میں ویسے وہاں یہ فقرہ بولتا تھا کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔Come back to your creator اور اس کا مفہوم وہ سارے سمجھتے تھے۔چنانچہ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا مطلب تو اسلام سے ہے نا؟ میں نے کہا، ہاں، اللہ وہی تو ہے، جو اسلام نے پیش کیا ہے۔وہ لوگ ذات باری اور صفات باری کے متعلق تو کچھ جانتے نہیں تھے۔لیکن وہ مفہوم کے لحاظ میرے فقرہ کا ترجمہ کر لیتے تھے۔اور انہوں نے یہ شائع کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ تم اسلام کو قبول کرو، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔اس کے بعد ہم ہیمبرگ پہنچے۔ہیمبرگ میں چار روزانہ اخبار ہیں۔جرمنی میں صرف دو اخبار ایسے ہیں، جو سارے جرمنی میں پڑھے جاتے ہیں بلکہ ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔اور لندن ٹائمنر کے ہم 184