تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 179
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 25 اگست 1967ء والا ہوں، اس وقت آپ اس کو انہونی خیال کریں گے اور تم مجھے پاگل سمجھو گے۔لیکن اگر تم نے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع نہ کیا تو یہ تباہی تم پر ضرور آئے گی۔پھر جو آپ میں سے بچیں گے، وہ میرے گواہ ہوں گے۔وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ آج میں تمہارے ساتھ کچی باتیں کر رہا ہوں۔پس یہ دو اغراض تھیں، جن کے لئے یہ سفر کیا گیا تھا۔اب میں پہلے پریس کو لیتا ہوں، جیسے اخباروں کے ایڈیٹر آزاد ہوتے ہیں کہ جو مرضی ہو، لکھ دیں اور غلط بات کی تردید بھی شائع نہ کریں، اسی طرح پر لیس بھی آزاد ہوتا ہے۔وہ بھی انہی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔جو بیان وہ چاہیں، لکھ دیں۔ایک بات میں نہ کہوں اور وہ میری طرف منسوب کر دیں تو انہیں کون پوچھ سکتا ہے؟ یا میں ایک بات کہوں تو وہ آدھی شائع کریں اور آدھی شائع نہ کریں۔وہ اس بات کا وہ حصہ دیں کہ اگر اس کا دوسرا حصہ لوگوں کے سامنے نہ آئے تو بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟ اس لئے ہمارے مبلغ پر یس کا نفرنسز سے خائف تھے۔خصوصاً اس لئے بھی کہ آج کل یورپ میں اسلام کے خلاف تعصب اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔آپ اس تعصب کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔مجھے ذاتی مشاہدہ سے یہ علم حاصل ہوا ہے کہ وہ قومیں جواب تک یہ ظاہر کرتیں رہی ہیں کہ ہم میں بڑی رواداری پائی جاتی ہے، ہم میں بڑی Tolerance ہے، دراصل ان کے اندر اسلام کے خلاف بڑا تعصب پایا جاتا ہے۔اور کبھی اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ وہ تعصب نگا ہوکر نمایاں ہو جاتا ہے اور وہ اسے چھپا نہیں سکتے۔آج کل سارا یورپ (انگلستان سمیت) اس قسم کے تعصب کی مرض میں مبتلا ہے۔یہاں تک کہ پچھلے دو، چار مہینوں میں بعض عرب باشندوں پر چاقو اور چھری سے حملے بھی کئے گئے ہیں، جو ان ملکوں کے لئے بالکل نئی بات ہے۔غرض ان کے اندر اسلام کے تعصب کو بھڑکا یا گیا ہے۔ہمارے اپنے مبلغ پریس کانفرنس سے اتنے خائف تھے کہ آپ ان کے خوف کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔اور مجھے کہنا پڑا تم کیوں ڈرتے ہو؟ تم تسلی رکھو سوال مجھ سے ہوتا ہے اور جواب بھی میں نے دینا ہے۔میں انہیں خود ہی سنبھال لوں گا۔اور میں نے انہیں کیا سنبھالنا تھا ، میں اللہ تعالیٰ سے صرف دعا ہی کر سکتا تھا اور میں دعائیں کرتا تھا۔چنانچہ کسی جگہ بھی پریس کے کسی نمائندہ نے ادب اور احترام کو نہیں چھوڑا۔میرا ان پر کیا حق تھا؟ مجھے وہ کیا جانتے تھے ؟ میری عاجزی اور تواضع کے مقام کو تو میرا رب ہی جانتا تھا۔غرض میرے رب نے ایسا انتظام کر دیا تھا کہ اس عاجز اور لاشئی محض سے سب ادب و احترام کے ساتھ پیش آئے۔میرے سامنے کسی نے شوخی نہیں دکھائی، کسی نے میری طرف غلط بات منسوب نہیں کی ، کسی نے میری آدھی بات 179