تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 180
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم رپورٹ نہیں کی۔جب میری بات رپورٹ کی ہے تو پوری کی ہے۔اور یہ عام نقشہ ہے ساری پریس رپورٹ۔اور نقشہ یہ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل کا آئینہ دار ہے۔سب سے پہلے ہم فرینکفورٹ پہنچے تھے۔وہاں ہمارا سب سے کم قیام تھا یعنی صرف ایک دن۔گو ہم وہاں دورا تیں سوئے لیکن دن ایک ہی ٹھہرے۔ہفتہ کی شام کو مغرب کے قریب وہاں پہنچے اور پیر کی صبح کو ہم زیورک کے لئے روانہ ہو گئے۔ہمیں کچھ پروگرام بدلنا پڑا۔پہلے زیورک کا پروگرام تھا۔پھر بعض حالات کی وجہ سے ہم نے وہ جہاز لیا، جو ماسکو کے راستہ جانا تھا۔جہاز تو وہ بھی پی۔آئی۔اے کا تھا لیکن اس کے ذریعہ جانے میں پہلے فرینکفورٹ آتا تھا۔پہلا جہاز بھی پی آئی اے کا تھا لیکن اس پر جانے میں پہلے زیورک آتا تھا۔پہلے انہوں نے ہفتہ کی شام کو ری سپشن (Reception ) رکھ دی تھی۔دعوت نامے بھجوائے جاچکے تھے۔ان ملکوں میں یہ بڑی مشکل ہے کہ ایک آدمی کو مثلاً ہفتہ کے لیے دعوت نامے ملے اور عین وقت پر اسے یہ کہا جائے کہ تم ہفتہ کی بجائے اتوار کو آؤ۔اس طرح ان کا کسی دعوت میں آنا بہت مشکل ہے۔لیکن بعض حالات ہی ایسے پیش آگئے تھے کہ ہمیں وہ پروگرام بدلنا پڑا اور ری سپیشن (Reception) ہفتہ کی بجائے اتوار کو رکھی گئی۔اور میرا خیال تھا کہ یہاں اخبار والوں نے ہمارا کوئی نوٹس نہیں لینا۔اخباروں میں ہمارے متعلق کوئی خبر نہیں آئے گی اور پریس کا نفرنس بھی کوئی نہیں تھی۔صرف ایک ری سپیشن تھا ، جس میں پریس کے نمائندے بھی مدعو تھے اور ان کے علاوہ کوئی پادری تھا، کوئی سکالر تھا؟ کوئی وزیر تھا، کوئی ہائی کورٹ کا جج تھا۔غرض اس قسم کے تیں، چالیس آدمی تھے، جو مدعو تھے۔مختصری پارٹی تھی۔اس موقع پر کچھ باتیں ہوئیں، مختصری تقریر ہوئی ، جس کا جرمن میں ترجمہ ہوا۔یہاں الفضل میں وہ تقریر چھپی ہے۔بڑی مختصر وہ تقریر تھی۔لیکن اس قسم کی تقریر کو بھی وہاں اڑھائی گئے وقت لگ جاتا ہے۔(میں نے وہاں انگریزی اور ار دو دونوں زبانیں استعمال کی ہیں۔پہلے میں ایک فقرہ کہتا پھر ترجمہ کرنے والا اس کا جرمن میں ترجمہ کرتا پھر میں اگلا فقرہ کہتا۔اگر تقریرلکھی ہوئی نہ ہو تو بڑی مشکل پیش آتی ہے۔میرا وہ مضمون لکھا ہوا تھا۔لیکن بعض جگہ میں نے بغیر لکھے بھی تقریر کی ہے۔بہر حال اگر تقریرلکھی ہوئی نہ ہو تو بڑی مشکل پیش آتی ہے۔یعنی ایک فقرہ کے بعد انتظار کرنا اور پھر اس کا اگلے فقرے کے ساتھ جوڑ لگانا اور یہ بھی دیکھنا کہ ترجمہ صحیح ہوا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ مجھے سمجھ دے دیتا تھا۔گو میں جرمن نہیں جانتا تھا لیکن مجھے اس بات کا پتہ لگ جاتا تھا کہ ترجمہ کرنے والے نے فلاں حصے کا ترجمہ نہیں کیا۔اور میں کہہ دیتا تھا کہ تم فلاں حصہ کا ترجمہ چھوڑ گئے ہو، تم اس کا ترجمہ کرو۔اس سے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ میں بڑی اچھی زبان جانتا 180