تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 178

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پھر ڈاک میں روزانہ کوئی نہ کوئی خط ایسا ہوتا ، جس میں کوئی مبشر خواب ہوتی اور میں اسے پڑھ کر بڑا خوش ہوتا۔کیونکہ اعتراض والی خواب سے جو دو نتیجے میں نے نکالے تھے، انہیں پورا ہوتے دیکھتا۔بشارتیں مل رہی تھیں اور ان کا اعلان ہو رہا تھا۔اور ہم اس بات سے خوش ہورہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے سرور کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اگر کوئی دماغ اعتراض کرتا ہے تو ہمیں اس سے کیا ؟ ہمیں ایسے دماغ پر رحم آتا ہے، غصہ نہیں آتا کیونکہ وہ قابل رحم ہوتا ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ اپنی بشارتوں کی بارش برسا رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے، جس کے دماغ کو اعتراض سوجھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ وساوس سے ہر ایک کو ہی محفوظ رکھے۔غرض ہر بات میں ہمیں سرور مل رہا تھا اور ہم خوش ہو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے سرور کے سامان کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا ہے کہ سچی اور جھوٹی خواب میں ایک فرق ہے۔جھوٹا خواب جو انسان کا نفس بنائے یا وہ شیطان کا القا ہو، اس کے پیچھے طاقت نہیں ہوتی۔ایسا خواب پورا نہیں ہوتا۔لیکن خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا۔خدا تعالٰی جو بشارتیں دیتا ہے، ان کو پورا کرنے کے بھی وہ سامان پیدا کرتا ہے۔ان کو پورا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالی پر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس ذمہ داری کو اٹھا رہا ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں یہ بتارہا ہوں اور میں اس کو پورا بھی کروں گا۔انسانی غفلت کے نتیجہ میں کوئی نسل ان بشارتوں سے محروم رہ جائے تو یہ ان کی بدبختی ہے، ور نہ خدا تعالی کی کوئی بشارت ایسی نہیں ہوتی، جو پوری نہ ہو۔غرض خدا تعالیٰ اپنی بشارتوں کو بہر حال پورا کرتا ہے۔اگر کوئی ابتلا آ جائے اور کوئی حصہ قوم کا ان سے محروم رہ جائے تو یہ اور بات ہے۔میں نے بتایا ہے کہ بشارتیں مل رہی تھیں اور ہمارے لئے خوشی کے سامان ہو رہے تھے۔اب میں ان سامانوں کو لیتا ہوں ، جو اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ نے مختلف رنگوں میں کئے۔میرے دورے کی دواغراض تھیں۔ایک اپنے بھائیوں، بہنوں اور بچوں بچیوں کو ملنا، ان سے واقفیت حاصل کرنا اور معلوم کرنا کہ کس قوم میں کسی قسم کی کمزوری ہے؟ تاہم کسی نہ کسی رنگ میں تربیت کر کے ان کمزوریوں کو دور کر دیں۔ان کے لئے خاص طور دعا ئیں کرنے کا بھی موقع ملتا تھا اور باہمی مشورہ اور تبادلہ خیالات کے بعد زیادہ اچھا پروگرام بھی بنایا جا سکتا تھا۔اور دوسری غرض میرے اس سفر کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور کے ساتھ یہ ڈالا تھا کہ ان قوموں کی تباہی کا وقت قریب آ گیا ہے، اس لئے ان پر اتمام حجت ہونی چاہئے۔چنانچہ ہر پریس کانفرنس میں، میں ان کو یہی کہتا تھا کہ جو بات میں آپ کو آج بتانے 178