تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 169 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 169

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 25 اگست 1967ء بہر حال ہم عرفانی صاحب کے مکان پر آئے۔اس مکان کا فرنٹ بالکل وہی تھا، جو پہلے تھا۔وہی چھوٹا سا دروازہ، جو اس کا ہوا کرتا تھا۔ہم اس دروازہ میں داخل ہوتے ہیں۔لیکن جب میں اس گھر میں داخل ہوتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرفانی صاحب کا مکان نہیں بلکہ وہ ایک بہت بڑے قلعے کا دروازہ ہے، جس میں سے ایک وقت میں پانچ ، سات کارمیں گزرسکتی ہیں۔غرض وہ اتنا بڑا دروازہ ہے۔اس دروازہ میں سے گزر کر ہم صحن میں آئے۔پرانے قلعوں کے دروازے خالی دروازے نہیں ہوتے تھے بلکہ قلعہ کا دروازہ ایک کمرہ کے اندر کھلتا تھا اور پھر اس کمرہ کا دروازہ آگے صحن میں کھلتا تھا۔بہر حال اس قلعہ کا بہت بڑا انٹرنس ہال ہے، جس میں ہم داخل ہوئے ہیں۔اور جو محن ہے، وہ اس طرح کا ہے، جیسے کوئی ٹیلہ ہو۔اور نہایت خوبصورت سبزہ اس پر اگا ہوا ہے اور پھول بھی ہیں۔پھر خوب سجایا گیا ہے۔اور وہ قلعہ کا باغیچہ ، جو ایک ٹیلہ پر ہے، اس طرح ہے کہ سامنے کی طرف اور ہر دو پہلوؤں کی طرف کچھ سلوپ (Slope) اور ڈھلوان ہے۔مجھے یاد نہیں اور نہ ہی خواب میں مجھے پتہ لگا کہ کون ہمیں اس طرف لے جارہا ہے؟ بہر حال کوئی ہمیں اس طرف لے جانے والا تھا۔اور وہ ہمیں اس ٹیلہ کے اوپر لے گیا، جہاں ایک کا وچ بچھا ہوا ہے۔اور اس نے مجھے اور منصورہ بیگم کو کہا کہ آپ یہاں بیٹھیں۔وہاں کئی سو آدمی موجود ہیں، جوان کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، جو گھاس کے تختوں پر بچھی ہوئی ہیں۔اس وقت تک کہ ہم اس کا وچ یعنی صوفہ سیٹ کے اوپر بیٹھیں، ہمیں پیچھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا، سامنے ہی نظر آرہا تھا۔لیکن جب ہم وہاں بیٹھے (بائیں طرف منصورہ بیگم ہیں اور دائیں طرف میں ہوں۔) اور منہ اوپر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس قلعے کی دیوار کے اندر کا حصہ، جو ہمارے سامنے تھا، ایسی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ کوئی انسانی ہاتھ ایسی خوبصورتی پیدا نہیں کر سکتا۔اور نہ ہی کسی انسان کے تصور میں وہ چیز آسکتی ہے، جب تک اللہ تعالیٰ اپنی کسی خاص مشیت کے ماتحت اسے وہ خوبصورتی نہ دکھائے۔اور جتنا بڑا دروازہ اور ڈیوڑھی اس قلعہ کی تھی ، اسی نسبت سے وہ دیوار تھی یعنی کئی سو گز۔نصف اس کے دائیں طرف اور نصف بائیں طرف۔ہمارے آگے اور جہاں وہ دیوار ختم ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی ( قلعے مستطیل ہوتے ہیں۔) ایک ایک کمرہ دونوں طرف کا مجھے نظر آیا تھا۔اس کے علاوہ میں نے اس کا کچھ نہیں دیکھا۔اور ان کمروں کی دیواریں بھی اسی خوبصورتی سے سجائی گئی ہیں۔اور یہ قلعہ دو منزلہ تھا۔جس ڈیوڑھی میں سے ہم گزر کر آئے ہیں، وہ دو منزلہ عمارت سے اوپر نکل جاتی تھی۔اور جیسا کہ قلعوں کے اندر عام طور پر گنبد ہوتے ہیں، اس کے دونوں کناروں پر گنبد تھے۔اور وہ سارا حصہ، جس پر ہماری نظر پڑتی تھی ، نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔کوئی بلب یا ٹیوب ہمیں نظر نہیں آتی تھی اور 169