تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 168 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 168

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم اس رؤیا کے بتانے کے بعد اب میں اپنی وہ رو یا بتا تا ہوں ، جور وانگی سے چند روز قبل میں نے دیکھا۔جس وقت تحریک جدید کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ کو پن بیگن کی مسجد کا افتتاح میں خود وہاں جا کر کروں اور دراصل یہ وہاں کی جماعت کی خواہش تھی ، جو انہوں نے مجھ تک پہنچائی تھی۔اور جب یورپ کے دوسرے مشنوں کو معلوم ہوا کہ میں مسجد کے افتتاح کے لئے کوپن ہیگن آرہا ہوں تو وہاں سے مطالبے آنے شروع ہوئے کہ اگر آپ ڈنمارک آئیں تو ہمارے مشن میں بھی آئیں۔چنانچہ یہ پروگرام بنا کہ اگر جائیں تو یورپ کے سارے مشنوں کا دورہ بھی کریں۔لیکن میرے دل میں پورا انشراح پیدا نہیں ہوا تھا۔اور تحریک مطالبہ کر رہی تھی کہ کافی وقت پہلے ان کو اطلاع دینی چاہئے تا وہاں انتظامات ہو سکیں۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ وہ اپنی طرف سے پوری تیاری کر لیں تا کہ اگر جانے کا پروگرام بنے تو ان کو کوئی وقت پیش نہ آئے۔لیکن اپنے ذہن میں یہ بھی رکھیں کہ ضروری نہیں کہ میں اس سفر کو اختیار کروں۔تاکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مایوس نہ ہوں۔غرض یہ مشروط پروگرام ان کو دیا گیا اور یہاں میں نے جماعت میں دعا کے لئے تحریک کی۔بعض دوستوں کو خاص طور پر خطوط لکھوائے اور بعض کو کہلوا کے بھیجا۔دوستوں نے بھی بڑی دعائیں کیں اور میں بھی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق دعائیں کرتارہا۔اللہ تعالیٰ نے بہت دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائی لیکن پورا انشراح نہیں ہو رہا تھا۔بہت سے دوستوں نے مبشر خواہیں بھی دیکھیں۔بعض نے بشارتوں کے ساتھ بعض منذر حصے بھی دیکھے۔خود میں نے دو، تین خواہیں ایسی دیکھیں، جن میں مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ واپسی پر کچھ بدمزگی وغیرہ پیدا ہوگی یا کوئی خطرہ پیش آئے گا۔لیکن وہ سارے نظارے واپسی کے تھے۔جس میں یہ اشارہ پایا جاتا تھا کہ سفر کے لئے روانگی ہوگی۔کیونکہ روانگی کے بغیر واپسی نہیں ہوا کرتی۔لیکن پھر بھی طبیعت میں پورا انشراح نہیں تھا۔تب قریباً آٹھ ، دس روز پہلے میں نے اپنے رب کے عظیم نور کا ایک حسین نظارہ دیکھا۔میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ہم قادیان میں ہیں اور عرفانی صاحب کے مکان میں کوئی تقریب ہے۔جس میں مجھے اور منصورہ بیگم کو بھی بلایا گیا ہے۔اور وہ تقریب عصر کے بعد ہے۔چنانچہ اس کے لئے ہم روانہ ہوئے۔ہم حضرت مرز اسلطان احمد صاحب کے مکانوں میں سے گزر کر اس گلی میں سے گزرے، جو اس چوک میں داخل ہوتی ہے، جہاں ڈاکٹر احسان علی صاحب کی دکان تھی۔اور وہیں سے بائیں طرف الحکم سٹریٹ میں داخل ہو جاتی ہے۔ہم بھی اس چوک سے ہو کر الحکم سٹریٹ میں داخل ہوئے۔ہمارے ساتھ کچھ اور آدمی بھی ہیں۔(وہی قادیان کا نظارہ ہے، جس کی اینٹ اینٹ ہمیں یاد ہے اور ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔) 168