تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 160

اقتباس از خطاب فرمود 12 اگست 1967ء وو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم مالی قربانی میں بھی ہماری عورتیں ہزاروں کی تعداد میں ایسی ہیں، جو مردوں سے پیچھے نہیں۔اب دو مسجد میں تو آپ نے خالص اپنے چندوں سے بنادیں۔ایک تو حال ہی میں مسجد ہے، کو پن ہیگن کی ، جس کا ہم ابھی افتتاح کر کے آئے ہیں۔بڑی ہی خوب صورت مسجد ہے۔میں زیورک میں تھا تو صبح تین بجے کے قریب میں اٹھا۔میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے۔مبارك ومبارك وكل امر مبارك یہ مسجد مبارک قادیان کے متعلق ہے اور وہاں لکھا بھی ہوا ہے دیوار پر تعبیر میرے ذہن میں یہ آئی کہ یہ دورہ اور وہ تمام مساجد، جو اس دورہ میں، میں visit کروں گا، جہاں میں جاؤں گا، اللہ تعالیٰ ان مقامات کو پہلے سے بھی زیادہ برکت دے گا۔کوپن ہیگن کی اس خوبصورت مسجد کی محبت وہاں لوگوں کے دلوں میں اتنی زیادہ پیدا ہوئی کہ ہم یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ میں یا پچاس عیسائی بچے مختلف وقتوں میں ایک وقت میں تو اتنی تعداد نہیں ہوتی تھی۔ایسے تھے ، جو وہاں آکر نماز میں شامل ہو جاتے تھے۔اور صرف فرض نماز میں نہیں بلکہ سنتوں اور وتروں میں بھی۔منصورہ بیگم نے بتایا کے دولڑ کیاں بارہ، تیرہ سال کی سہیلیاں تھیں۔غالباً وہ وہاں آتی تھیں اور عشاء کے بعد وتروں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔انہیں دیکھ دیکھ کے یعنی ان احمدی بہنوں کو دیکھ دیکھ کے، جو وہاں کی ہیں۔الغرض صبح سے لے کر شام تک تانتابندھارہتا تھا، لوگوں کا۔وہ سب مسجد کو دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ایک دن میرے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کہتے ہیں کہ میں رات کو ڈیڑھ بجے اٹھا، میں نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کی تصویریں لے رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ صبح سے لے کر رات کے ڈیڑھ بجے تک وہاں لوگ آتے رہے۔اخباروں نے نچی باتیں بھی لکھیں، بعض جھوٹی باتیں بھی لکھیں۔پھر ان کی تردید بھی کرنی پڑی۔اتنے جاہل ہیں یہ لوگ اسلام کے متعلق کہ ایک اخبار نے تصویر دے کر نیچے یہ فقرہ لکھ دیا کہ یہ لوگ محمد کی پرستش کر رہے ہیں۔مجھے جب پادری ملنے آئے تو میں نے وہ اخبار، ان کا جو لیڈ رتھا، اس کے ہاتھ میں دیا اور کہا، اس کا ترجمہ کر کے بتاؤ۔(وہ فقرہ ڈینش زبان میں لکھا ہوا تھا۔) مجھے تو پتہ تھا کہ کیا اس کے معنی ہیں؟ لیکن میں ان کے منہ سے کہلوانا چاہتا تھا۔اس کا منہ سرخ ہو گیا شرمندگی سے۔کہنے لگا میں نے یہ اخبار دیکھا ہے۔ہمیں بڑا افسوس ہے اس پر، جس نے یہ لکھ دیا ہے۔میں نے کہا، اب دو صورتیں ہیں۔یا تو 160