تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 161
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 12 اگست 1967 ء تم اس کی تردید کر دیا میں اس کی تردید کروں۔میں تردید کروں گا تو بد مزگی پیدا ہوگی۔بہتر یہ ہے کہ تم کرو۔اس نے کہا، نہیں ہم کریں گے۔چنانچہ انہوں نے بڑی لمبی تردید اس کی اسی اخبار میں شائع کی کہ ہم سے غلطی ہو گئی ، جو ہم سے یہ فقرے لکھے گئے۔بہر حال اس سے ان کی جہالت کا پتہ لگتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ اسلام قبول کیسے کریں، جو اسلام کو پہچانتے نہیں، اس کی تعلیم سے واقف نہیں؟ ہمارا کام ہے، ان تک اس تعلیم کو پہنچانا اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنا۔کئی مجھ سے پوچھتے تھے کہ یہ کام تم کسے کرو گے؟ میں نے جواب دیا کہ misunderstanding( غلط نہی) کو دور کر کے۔کیونکہ misunderstandings ( غلط فہمیوں) کو دور کرنے کا جو راستہ ہے، وہ صداقت کے قبول کرنے تک پہنچا دیتا ہے۔ساری غلط فہمیاں آپ کسی کی دور کر دیں اسلام کے متعلق ، وہ خود بخو د اسلام لے آئے گا۔کوئی غلط نہی اس کے دل میں نہیں رہے گی۔اور پھر ہمیں نمونہ بن کے ان کے دل موہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس وقت جو آپ کے واقف ہیں تھوڑے بہت ، وہ تو آپ کو پہچانتے ہوں گے۔لیکن دنیا بجھتی ہے کہ یہ عجیب و غریب خلقت ہے۔اپنی ان کی دنیا ہے اور اپنے خیالات۔اور یہ ہم سے کئے ہوئے ہیں۔یہ خیال غلط ہے۔زیورک میں ایک دوکاندار سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگا اچھا! تو کیا میں مسجد میں جاسکتا ہوں؟ میرا تو خیال تھا کے مسلمانوں کی مسجد میں کوئی عیسائی داخل ہی نہیں ہوسکتا۔میں نے اس کو بتایا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مسجد میں عیسائی وفد کو اپنی عبادت کرنے کی اجازت دے دی تھی اور تمہیں ابھی تک یہ شبہ ہے کہ تم مسجد میں داخل بھی ہو سکتے ہو یا نہیں ؟ کوپن ہیگن والوں کو تو اب پتہ لگ گیا ہے۔پہلے تو وہاں بھی اکثریت ایسی ہی ہوتی تھی، جو کار سے اترتا۔میاں، بیوی بچوں کو ساتھ لے کر وہ باہر ہی کھڑا ہو کر دیکھنے لگ جاتا۔اندر آتے ہوئے ، وہ ڈرتے تھے۔چونکہ ہمارے وہاں بہت سے احمد کی جمع تھے ، وہ ان کو اندر لے آتے تھے اور ان کو بتا دیتے تھے کہ ایک ہماری condition (شرط) ہے کہ اپنی جوتیاں اتار دو۔کیونکہ جوتیوں کے ساتھ گند ہوتا ہے۔تو وہ بے چارے باہر جوتیاں اتارتے ، اپنی طرف سے تو بڑی قربانی دیتے ہوں گے، بوٹ اتار کے اندر جاتے تھے۔وہ مسجد بڑی خوبصورت ہے اور بڑی اس کے اندرشان بھی پائی جاتی ہے اور اللہ یاد آجاتا ہے۔میں جب بھی اندر گیا ہوں، میرا دل چاہتا تھا کہ میں سب باتیں چھوڑ کر دو نفل پڑھ لوں ، اس وقت۔بعد میں خدا نے توفیق دی اور پڑھے علیحدگی میں۔اور پڑھے بھی افتتاح سے پہلے، جبکہ وہ ابھی بن رہی تھی۔161