تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 128
خطبہ عید الاضحیہ فرمود و 22 مارچ 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان سے قربانی کی۔ایک بے آب و گیاہ مقام کے او پر آباد ہو جانے کی، دنیا سے تمام علائق کو توڑ دینے کی۔اور ان کے ذمہ یہ لگایا گیا تھا کہ بیت اللہ کی صفائی ، پاکیزگی اور طہارت کا ابھی سے انتظام کرو۔کیونکہ میں رب العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی طرف مبعوث کرنے والا ہوں۔اور اپنے خاندان میں یہ وصیت کرتے چلے جاؤ کہ وہ بھی وقف کے اس سبق کو بھولیں نہ۔اور ساری قوم کوشش میں لگی رہے، اس بات کے لئے کہ آئندہ نسلیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اور ذمہ داری صرف یہ تھی ، خانہ کعبہ کی حفاظت ، اس کی پاکیزگی کا انتظام کرنا۔جولوگ خانہ کعبہ میں آئیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ، خدائے واحد کی عبادت کے لئے ، ان کی خدمت میں لگے رہنا اور اس میں اپنا فخر سمجھنا۔اور اس طرح ایک روحانی خاندان اور پھر قوم کو تیار کر دینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے۔اور دعائیں کرتے رہنا۔چونکہ استعداد کے باوجود بھی ناکامی ہو جاتی ہے، اس لئے اڑھائی ہزار سال تک اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کروائی ، اس خاندان اور اس قوم سے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو وہ خاندان ( جو ایک قوم بن گیا تھا، اس لمبے زمانہ میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو سن کر اس پر لبیک کہیں۔چنانچہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک ایسا دور بھی آپ کی زندگی میں پیدا کیا، جو خالصہ قربانی کا دور تھا۔مکی زندگی ، جس کا ایک، ایک سانس ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان سانسوں کے مقابلہ میں تھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر تھا، جب آپ کے جلانے کے لئے آگ کو تیار کیا گیا تھا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس زمانہ سے زیادہ شاندار تھا، جب وہ اس وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ دیئے گئے تھے۔وہ ایک طرح کی موت تھی، جو ان کے سامنے تھی۔گو انہیں اس وقت اس کا احساس نہ تھا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو احساس بھی تھا اور دوہرا احساس تھا۔ایک تو اپنی قوم کی ایذا ئیں تھیں۔مصیبت تو خدا کے لئے ، خدا کے بندے برداشت کرتے ہی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ قربانی اتنی نہیں تھی ، جتنی یہ قربانی تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ جس قوم کی ہدایت اور جس دنیا کی راہ نمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے، وہ مجھے ٹھکرارہی ہے۔کیا بنے گا اس قوم کا اور کیا بنے گا دنیا کا، اگر یہ باز نہ آئے اپنی حرکات سے؟ یہ سوچ کر آپ کے دل اور آپ کی روح نے جو قربانی دی ہے، اس کا مقابلہ کوئی اور قربانی نہیں کرسکتی۔لیکن اس کے بعد یکدم حالات نے پلٹا کھایا اور وہی 128