تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 129

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ عید الاضحیہ فرمود 22 مارچ 1967ء جو آپ کے دشمن تھے، آپ کے دوست بنے ، آپ کے فدائی بنے ، آپ کے ذراذرا سے دکھ پر اپنی جانوں کو قربان کرنے والے بنے ، اسلام کی خاطر اپنوں کو اور اپنے علاقہ کو چھوڑ کر ساری دنیا میں پھیل کر خدائے واحد کا نام دنیا میں پھیلانے والے بنے، دنیا میں ایسی قربانی دینے والے بنے کہ جن قربانیوں کی مثال پہلے کسی نبی کی امت میں نہیں ملتی۔یہ استعداد، جو اس قوم میں پیدا ہوئی کہ جب تک سوئی رہی ، فتنہ عظیمہ کا باعث اور جب بیدار ہوئی تو اتنی شاندار قربانیاں دینے والی کہ جو بے مثل ہیں، یہ انہیں ابراہیمی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔اور ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کے خاندان کو جب وقف میں لیا گیا تو ان کے ذمہ ڈیوٹی یہی تھی، کام یہی تھا کہ تم نسلاً بعد نسل قریباً اڑھائی ہزار سال تک اس دعا میں لگے رہو کہ تمہاری قوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔اور اسلام کی ذمہ داریوں کو نباہنے والی ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، خانہ کعبہ کی بنیاد کے جو مقاصد تھے، وہ کم و بیش اٹھارہ ، ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائے۔اور ان مقاصد کو پورا کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔اگلے خطبوں میں، میں انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تفصیل سے یہ مضمون بیان کروں گا۔اور پھر اس مقام۔تک پہنچوں گا، جس کی طرف میں پہلے اشارۃ ذکر کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے اہم معاملہ کی طرف میری توجہ کو پھرا ہے۔اور میرا فرض ہے کہ میں آپ دوستوں کے سامنے اس کو بیان کروں اور آپ کا پھر فرض ہو گا کہ آپ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے وہ عظیم جد و جہد اور قربانی خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں، جس کی طرف اللہ تعالیٰ آپ کو بلا رہا ہے اور جس کے نمونے آپ کے سامنے ہیں۔جن میں سے ایک نمونہ کی طرف آج میں نے اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه روز نامہ انفضل 18 اپریل 1967ء) 129