تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 103
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 1 1 نومبر 1966 ء سے آپ کی محبت اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ جس مقام تک امت محمدیہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے روحانی فرزندوں میں سے کسی ایک کی بھی محبت نہیں پہنچی تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ہی میرا وہ عبد محبوب ہے، جس کو میں نے پھر اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرنے اور ادیان باطلہ پر فتح پانے کے لئے کھڑا کیا ہے۔پس اٹھ اور اپنے گوشئہ تنہائی کو چھوڑ اور اس حجرہ سے باہر نکل ، جس میں چھپ کر تو میری عبادت کرتا ہے۔اور میدان مجاہدہ میں اتر اور دنیا کو پکار کر کہہ کہ اسلام کے غلبہ کے دن آگئے ہیں۔اٹھو! اور میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، علوم قرآنی کو از سر نو سیکھو۔اور پھر دنیا کے استاد بن کر دنیا میں پھیلو اور دنیا کو انوار قرآنی سے متعارف کراؤ۔پھر خدا نے کہا کہ جب تم دنیا کو میرا یہ پیغام پہنچاؤ گے تو دنیا تمہاری مخالفت کرے گی۔تم اکیلے ہو گے مگر دنیا کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنا اور میری طاقت اور قدرت پر کامل بھروسہ رکھنا۔میں چاروں طرف ایسے آدمی پیدا کرتا چلا جاؤں گا، جو تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے۔یہ دیکھ کر دنیا انتہائی مخالفت کے لئے کھڑی ہو جائے گی اور تم سب کے کچلنے اور مٹانے کے درپے ہو جائے گی۔مگر وہ تمہیں ہلاک اور مغلوب نہ کر سکے گی۔پھر ہم اس قدر دلائل اور براہین تمہیں عطا کریں گے کہ یہ زمانہ ، جو علوم کا زمانہ ہے اور جس میں انسان ستاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، اس زمانہ کے بڑے بڑے عقل مند اور عالم اور سائنسدان ان دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔پس اٹھو! اور مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے ، قرآن کریم کی تعلیم کو تمام دنیا میں پھیلاؤ۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے رب کی نظر میں یہ مقام ہے اور یہ کام ہے، جس کی خاطر آپ کے رب نے آپ کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔جو دلائل دیئے ، وہ تو ایک سمندر ہے۔اس کا چند منٹوں میں، چند دنوں یا چند مہینوں میں یا چند سالوں میں یا چند صدیوں میں بھی بیان کرنا ممکن نہیں۔کیونکہ سمندر کے قطروں کو گنا آسان ہے لیکن ان دلائل کو اعداد وشمار میں باندھ دینا، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سکھائے ، مشکل ہے۔لیکن تین بنیادی چیزمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو سکھائی ہیں۔اور دراصل وہی تین بنیادی چیزیں ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری طاقت کا انحصار ہے اور جن کے نتیجہ میں ہم دنیا میں کامیاب ہو رہے ہیں۔103