تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 102
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1966ء " تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم۔۔۔اسلام کے ابتدائی زمانہ کی تاریخ کی مختصر سی تصویر ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب اسلام دنیا میں آیا تو بجائے اس کے کہ دنیا قرآنی علوم سے فائدہ اٹھاتی ، دنیوی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی ترقی کرتی، اس نے طاقت کے زور سے اسلام کے نور اور قرآن کریم کی چمک کو مٹانا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت کر دیا کہ قرآن کریم ایک نور ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نور ہے۔اور کسی الہی نور کو دنیا کی کوئی تلوار، دنیا کی کوئی بندوق، دنیا کا کوئی بم اور دنیا کا کوئی ایٹمی ہتھیا رتباہ نہیں کر سکتا۔اس کے بعد مسلمانوں نے بدقسمتی سے اسلام کو بھلا دیا اور قرآن کریم کے نور کو اپنے گھروں اور اپنے سینوں سے نکال باہر پھینکا۔اور ان کی بجائے اپنے سینوں اور گھروں کو بد خیالات ، بد رسوم اور شرک کے مختلف اندھیروں سے بھر لیا۔تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دلوں میں میرے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہی اور ان مکانوں میں میرے ذکر کو بلند کرنے کا کوئی سامان نہیں۔اب یہ مکان وہ بیوت نہیں رہے، جن کے متعلق وعدہ کیا گیا تھا اور بشارت دی گئی فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ کہ ایسے گھر ہوں گے، جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے گا اور آسمان سے ان کی بلندی کے سامان پیدا کئے جائیں گے۔تو پھر مسلمان تنزل کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے شروع ہوئے اور بعض دفعہ تو ایک انسان کی نیند حرام ہو جاتی ہے، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ تمام دنیا کے حاکم بھی یہی تھے، تمام دنیا کے استاد بھی یہی تھے ، تمام دنیا کو تہذیب سکھانے والے بھی یہی تھے اور تمام دنیا کو دنیوی علوم سکھانے والے بھی یہی تھے اور تمام دنیا کو روحانی علوم سکھانے والے بھی یہی تھے اور اب یہ حال ہے کہ اپنے گھروں سے، اپنے مدرسوں سے، اپنے کالجوں سے اور دوسری درسگاہوں سے روحانی علوم کو انہوں نے نکال کے باہر پھینک دیا اور دنیوی علوم کے لئے دوسری قوموں سے بھیک مانگنی شروع کر دی۔اندھیرے کا یہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق دنیا پر آیا۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق وہ وقت بھی آیا، جب اس اندھیرے کے زمانہ کونور کے زمانہ سے بدلنا مقدر تھا۔اور اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام بتایا کہ چونکہ آپ نے اپنا وجود کلیه محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم کر دیا ہے اور آپ کے سینہ میں اسلام کا درد اور تو حید کو قائم کرنے کی تڑپ ایسی پائی جاتی ہے اور آپ کے یہ جذبات اتنی شدت اختیار کر گئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 102