تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 60
اقتباس از خطبه عید الاضحیہ فرمودہ 14 اکتوبر 1948ء " تحریک جدید - ایک الہی تحریک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوھل کئے تھے۔ایک انہوں نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی اور دوسرے اس کی یاد میں انہوں نے بکرے کی قربانی پیش کی۔مگر آج کے دن مسلمان کیا کرتے ہیں؟ وہ بکرے کی قربانی تو پیش کرتے ہیں لیکن بیٹے کی قربانی بھول جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی نسل اور کوئی قوم اور کوئی خاندان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا، جب تک وہ اپنی اولاد کی قربانی پیش نہ کرے۔جس طرح کوئی زمیندار اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا ، جب تک وہ اپنے حاصل شدہ غلہ کی قربانی نہ کرے۔زمیندار ہل چلاتا ، زمین کو نرم اور ہموار کرتا اور پھر بطور یج اپنا وہ غلہ زمین میں ڈالتا ہے، جو کما کر وہ اپنے گھر میں لا چکا ہوتا ہے۔اس امید پر کہ اس کے ہاں موہوم غلہ پیدا ہو گا۔جو چیز وہ زمین میں ڈالتا ہے، وہ یقینی اور قطعی ہوتی ہے۔اور جو چیز پیدا ہونے والی ہوتی ہے، وہ وہی ہوتی ہے۔مگر کامیاب وہی زمیندار ہوتا ہے، جو ایک وہمی چیز کے لئے اپنی حاضر چیز قربان کر دیتا ہے۔جو زمیندار اس بات کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ اپنے حاضر غلہ کو موہوم غلہ کے لئے قربان کر دے، وہ خود بھی آئندہ ترقی سے محروم رہتا ہے اور اپنے ملک کو بھی آئندہ ترقی سے محروم رکھتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی قوم یہ بجھتی ہے کہ اس کی اولاد کی حاضر زندگی زیادہ قیمتی ہے اور وہ اپنی اولا د کو آئندہ کی زندگی کے حصول کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔وہ بھی اسی طرح تباہ ہو جاتی ہے، جس طرح وہ زمیندار تباہ ہو ہو جاتا ہے، جو اپنے حاضر غلہ کو محفوظ رکھتا ہے اور غائب غلہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔" بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اس قربانی کی یادگار میں کہ وہ اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے ، بکرے کو رکھا تھا۔مگر ہم تمثیل کو قبول کرتے ہیں اور حقیقت کو رد کرتے ہیں۔ہماری زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں، ہماری اولادوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں، ہمارے بھائیوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں، ہمارے ہمسایوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں، مگر ہم میں سے کوئی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پیش نہیں کرتا۔لیکن ہم میں سے ہر شخص ابراہیم کے بکرے میں سے گوشت کھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے“۔" ہماری جماعت کو بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا قربانی کے لحاظ سے اس کے افراد کے اندر وہ نسبت پائی جاتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رکھنے والی ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو یہ کتنے بڑے خوف کا مقام ہے کہ وہ دعوئی تو ایمان کا کرتے ہیں اور عمل وہ کرتے ہیں، جو ایمان کے خلاف ہوتا ہے۔۔۔۔پھر اب ایک اور وادی غیر ذی زرع اس رنگ میں بھی ہمارے سامنے ہے کہ ہم مرکز سلسلہ کے لئے ایک نئی بستی اسی قسم کے مقام پر بسا رہے ہیں۔یہ بستی بھی اسی لئے بسائی جارہی ہے کہ بد 60