تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 61

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبہ عید الاضحیه فرموده 14 اکتوبر 1948ء ماحول اور برے خیالات سے الگ ہو کر ہماری جماعت کے افراد دین کی تعلیم حاصل کریں اور پھر اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔یہ ایک چھوٹی قربانی ہے، جس کے ذریعے جماعت کے افراد اپنے اخلاص کا ثبوت دے سکتے ہیں اور دیں گے۔مگر عملاً وہی ثبوت دیں گے، جو اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ ہمارا اس وادی غیر ذی زرع میں رہنا صرف اس غرض کے لئے ہے کہ ہم دین کی اشاعت کریں۔اس کے بغیر اگر وہاں رہیں گے تو انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔بہر حال میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ کوئی قومی ترقی بغیر اولاد کی قربانی کے نہیں ہو سکتی۔جو قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں جا کھڑی ہو اور پھر وہ اپنی اولاد کی قربانی سے دریغ کرتی ہے، وہ ایک ناممکن بات کا قصد کرتی ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتی ہے۔گری ہوئی تو میں تبھی بڑھتی ہیں اور تبھی وہ ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں اپنا رستہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں، جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی اولادوں کو وادی غیر ذی زرع میں رکھنے اور خدا کے لئے انہیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔جب وہ مرنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں، جب وہ اپنی اولادوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت اس وقت کی زندہ قوموں کی زندہ نسلیں مرجاتی ہیں۔یہ قانون قدرت ہے، جس کا ہر جگہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔بوڑھا درخت مرتا ہے اور نیا درخت ترقی کرتا ہے۔پس دنیوی لحاظ سے بھی ترقی کی یہی راہ ہے کہ اپنی اولادوں کو قربان کیا جائے۔اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ یورپ کے لوگوں پر غلبہ حاصل کریں تو انہیں اپنی اولادوں کو قربان کرنا پڑے گا ، انہیں تعیش کے سامانوں کو اپنے لئے حرام کرنا پڑے گا۔یہ موت ہے، جو انہیں قبول کرنی پڑے گی۔اس موت کے دروازہ سے زندگی ملتی ہے۔اور اسی دروازہ میں سے گزر کر گری ہوئی تو میں دنیا پر غالب آیا کرتی ہیں۔اگر آج مسلمان اپنی زندگیوں کو سادہ بنالیں اور اپنی جانوں اور اپنی اولادوں کی جانوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں تو اب بھی کچھ نہیں گیا۔جس وقت عیسائیت بڑھنی شروع ہوئی ہے، اس وقت اسلام کے مقابلہ میں عیسائیت کی جو حالت تھی، آج عیسائیت کی ترقی کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اس سے بدرجہ ہا اچھی ہے۔اگر عیسائیت ہم سے کمزور ہو کر ساری دنیا پر غالب آ سکتی ہے تو مسلمان ساری دنیا پر کیوں غالب نہیں آ سکتے ؟ اگر وہ اپنے نفس میں تغیر پیدا کریں، اگر وہ اپنی اولادوں کو شیطان کے قبضہ میں دینے کی بجائے خدا تعالیٰ کے قبضہ میں دے دیں تو یقینا اسلام کفر پر غالب آسکتا ہے۔یقینا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حکومت آج بھی ساری دنیا پر قائم ہوسکتی ہے۔61