تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 59
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه عید الاضحیہ فرموده 14 اکتوبر 1948ء کوئی قومی ترقی بغیر اولاد کی قربانی کے نہیں ہوسکتی خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 14 اکتوبر 1948ء 194814 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی، ایک رؤیا کی بنا پر، ایک ارشاد الہی کی بنا پر۔اور خدا نے ان کے اس فعل کو پسند فرما کر حکم دیا کہ تم بکرے کی قربانی کرو، بیٹے کی قربانی نہ کرو۔میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یہ دکھائی دیا تھا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں، اس کی کیا تعبیر تھی؟ میں بار ہا تا چکا ہوں کہ بیٹے کی قربانی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ چھری لے کر اپنے بیٹے کو ذبح کر دو۔بلکہ مطلب یہ تھا کہ دین کی خدمت کے لئے اپنے میٹے کو وقف کر دو۔دنیوی ترقیات کے رستہ کو چھوڑ دینا، دنیوی عزتوں پر لات مار دینا اور دنیوی کامیابیوں کے حصول کے تمام ذرائع کو نظر انداز کر دینا، ایک بہت بڑی موت ہوتی ہے۔جو بسا اوقات دوسری موت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسری موت کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اس کا موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔کیونکہ اس میں احساس اذیت بہت لمبا ہوتا ہے۔اور ایک لمبے عرصہ تک انسان کو تکالیف میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔" یہ عید اس خوشی میں منائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی خدا تعالی کی راہ میں پیش کی۔لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ان کے دنبہ کی قربانی کو تو یا در رکھتے ہیں لیکن ہمارا ذہن اس طرف بالکل نہیں جاتا کہ ہم کس چیز کی یاد مناتے ہیں اور کس چیز کی یاد بھلاتے ہیں؟ حضرت ابراہیم کی دوقربانیاں تھیں۔ایک وہ قربانی ، جو انہوں نے اپنے بیٹے کی کی اور ایک وہ قربانی، جو انہوں نے بکرے کی کی۔بکرے کی قربانی محض یادگار کے طور پر تھی تا کہ جو حقیقی قربانی انہوں نے پیش کی تھی ، اس کی ایک ظاہری شکل بھی پیدا کر دی جائے۔اصل قربانی ان کی یہی تھی کہ انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع۔میں نے اپنی نسل کو خدائے واحد کی یاد اور اس کے ذکر کے لئے ایک ایسی جگہ بسا دیا ہے، جہاں دنیوی آمد کا کوئی ذریعہ نہیں اور جہاں کی زندگی دنیوی مال ومتاع کے کمانے میں محمد نہیں ہوسکتی۔یہ قربانی تھی، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔59