تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 583
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 فروری 1956ء نے کہا، ہم حکومت کے باغی نہیں۔ہم حکومت کے فرمانبردار ہیں بلکہ تم سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔لیکن اس بات کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ جہاں تک حکومت کے قانون کا سوال ہے، ہم اس کی پابندی کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔لیکن جہاں تک مذہب کا سوال ہے ، حکومت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جب ہمیں یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ اسلام سچامذ ہب ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں تو تم اس کے روکنے والے کون ہوتے ہیں؟ چنانچہ وہ لوگ واپس چلے گئے۔لیکن اس سے پتہ لگتا ہے کہ اب بعض جگہوں پر حکومتوں میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا ہے کہ اسلام پھیل رہا ہے، اسے کسی نہ کسی طرح روکنا چاہئے۔اور جہاں بھی اسلام پھیلے گا، یہ احساس ضرور پیدا ہوگا کیونکہ ملا ہر جگہ موجود ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ کسی جگہ اسلام کے ماننے والے ملا ہیں اور کسی جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالی کا بیٹا ماننے والے ملا ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سارے ملا برے نہیں ہوتے۔عیسائیوں میں بھی کئی نیک فطرت پادری ہیں، جولوگوں کی اصلاح اور خدمت خلق کا کام کرتے ہیں اور ہم انہیں برانہیں کہتے بلکہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کے علماء میں سے بھی وہ لوگ، جو دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہیں اور خدمت خلق کا کام کرتے ہیں، ہم ان کی عزت کرتے ہیں۔بلکہ ہمیں تو اس بات پر حیرت آتی ہے کہ مسلمان ملا کے لفظ سے چڑتے کیوں ہیں؟ حالانکہ یہ لفظ تعظیم کے لئے بنایا گیا تھا اور ہمارے کئی بزرگوں کے ناموں سے پہلے ملا کا لفظ آتا ہے۔در حقیقت یہ لفظ مولائی کا مخفف ہے، جس کے معنی ہیں ، میرے آقایا میرے سردار۔اسی کے خلاصہ کے طور پر ملا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور بعض جگہ مولوی کے لفظ سے اس کا مفہوم ادا کیا جاتا ہے۔بہر حال اگر کسی عالم دین کو اصلاح اخلاق اور خدمت خلق کی توفیق ہے تو چاہے وہ مسلمان ہو، پادری ہو، پنڈت ہو ، ہمارے نزدیک وہ بزرگ ہے۔کیونکہ وہ مذہب کا اصل کام کر رہا ہے۔مگر باوجود یہ تسلیم کرنے کے کہ دنیا کے ہر مذہب میں نیک اور صالح علماء پائے جاتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ جب عام لوگ دیکھتے ہیں کہ اب ہمارے ہاتھ سے رسہ نکل رہا ہے تو وہ مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، پین میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ اسلام کے پھیلنے کی وجہ سے اب وقت آگیا ہے کہ اسے پوری طاقت کے ساتھ دبا دیا جائے۔اس کا یہی علاج ہے کہ ہمارے پاس زیادہ مبلغ ہوں تا کہ وہ بڑی تعداد میں وہاں جائیں اور اسلام کی اشاعت کریں اور لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کریں۔دوسری صورت اس کے علاج کی یہ ہے کہ اس ملک میں کثرت سے دینی لٹریچر بھیجا جائے تا کہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد وہاں کے لوگ حق و باطل میں امتیاز کر سکیں۔سپین کو ہی لے لو۔583