تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 400

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نائی، دھوبی یا موچی ہیں۔اور یہ قابل اعتراض بات نہیں۔اس کے یہ معنی ہیں کہ جب دین کا بیڑا غرق ہونے لگا تو اس وقت جو دین کی خدمت کے لئے آگے آگئے ، خدا تعالیٰ نے انہیں عزت دے دی۔اسی طرح اگر اب تم آگے نہ آئے تو تمہارے ساتھ بھی یہی ہوگا۔جب جماعت ترقی کرے گی تو انہیں لوگوں کو عزت حاصل ہوگی ، جو اس وقت دین کی خدمت کریں گے۔پاکستان میں دیکھ لو، مولاناعبدالحامد بدایونی تقریر کرتے ہیں تو کبھی اس کی صدارت دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان کرتے ہیں اور کبھی اس کی صدارت خود گورنر جنرل کرتے ہیں۔حالانکہ پاکستان بننے سے قبل انہیں کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی نہیں بلاتا تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پاکستان بنانے کی توفیق دی تو اس نے علماء کو بھی عزت دے دی۔پاکستان بننے کے بعد جب میں کراچی گیا تو اس وقت سندھ کے گورنرسر غلام حسین ہدایت اللہ تھے۔میں جب واپس روانہ ہونے لگا تو ان کا سیکرٹری میرے پاس آیا اور اس نے کہا سر غلام حسین ہدایت اللہ نے سعودی عرب کے دو شہزادوں کی دعوت کی ہے اور انہوں نے اس موقع پر آپ کو بھی بلایا ہے۔میں نے کہا میں تو آج چار بجے واپس جارہا ہوں۔اس نے کہا ، ان کی خواہش ہے کہ آپ اس موقع پر ضرور تشریف لائیں۔میں نے کہا، بہت اچھا۔لیکن بعد میں خیال آیا کہ دعوت تو عین جمعہ کے وقت میں رکھی گئی ہے۔میں نے کہا، آپ کی دعوت کا وقت وہی ہے، جو جمعہ کی نماز کا ہے۔اگر دعوت کا وقت پہلے یا بعد میں کر دیا جائے تو میں آجاؤں گا۔بعد میں سعودی عرب والوں نے بھی کہا کہ ہم بھی سوچ رہے تھے کہ یہ وقت تو جمعہ کی نماز کا ہے، ہم اس موقعہ پر کیسے آئیں گے؟ خیر انہوں نے دعوت کا وقت تبدیل کر دیا۔میں نے دیکھا کہ اس دعوت میں مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی بھی مدعو تھے۔اب پاکستان بننے سے پہلے عثمانی صاحب کی حیثیت ایسی نہ تھی کہ انہیں ڈپٹی کمشنر بھی کسی دعوت پر بلا تا لیکن یہاں گورنر سندھ نے انہیں بلایا تھا۔پس جب کسی قوم پر خدا کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ ترقی کر جاتی ہے تو اس کے علماء کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہو جاتا ہے۔اور در حقیقت ان کا آگے آنے کا حق ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ ان کاموں میں حصہ نہ لیں، جو ان سے تعلق نہیں رکھتے۔جیسے پچھلے دنوں علماء نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا تو وہ ملامت کا ہدف بن گئے۔اسی طرح اب بھی علماء اپنا کام چھوڑ کر سیاسیات میں حصہ لیں گے تو وہ لوگوں کی ملامت کا ہدف بن جائیں گے۔لیکن علماء ایسی باتوں میں دخل نہ دیں تو اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ جب بھی کوئی قوم ترقی کرے گی تو علماء بہر حال زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔400