تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 399
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء اشارہ کیا، جہاں آجکل قادیان میں محلہ دار الفضل آباد ہے۔اس نے کہا میں 50 روپے فی کنال کے حساب سے زمین بیچ دوں گا۔اور اس طرح قریباً چھ ایکڑ زمین کی فروخت سے دو، اڑھائی ہزار روپیل جائے گا۔میں نے کہا، بہت اچھا تمہیں زمین فروخت کرنے کی اجازت ہے۔لیکن کیا تمہیں کوئی شخص 50 روپے فی کنال کے حساب سے قیمت دے دے گا ؟ اس نے کہا، ہاں بہت سے لوگ موجود ہیں، جو اس بھاؤ پر زمین خریدنا چاہتے ہیں۔چنانچہ ظہر کے وقت اس نے یہ بات کی اور عصر کے وقت اس نے روپیہ لا کر میرے سامنے رکھ دیا۔اور کہا، ابھی بہت سے گاہک موجود ہیں، اگر آپ سور و پیہ فی کنال بھی قیمت کر دیں تو وہ خریدنے کے لئے تیار ہیں۔پھر وہی زمین تھی ، جو دس، دس ہزار روپیہ فی کنال کے حساب سے ہم نے خود خریدی۔جہاں میرا دفتر تھا، وہاں پر کچھ زمین ہم نے ہیں ہزار روپیہ کنال کے حساب سے خریدی۔یہ سب خدا تعالی کی دی ہوئی چیز تھی، ورنہ ہم تو اپنی جائیداد سے اتنی آمد کی امید بھی نہیں رکھتے تھے کہ پندرہ، ہیں روپیہ پر کوئی آدمی ملازم رکھ لیں۔بعد میں وہی جائیداد کروڑوں روپیہ کی ہوگئی۔غرض ہر چیز خدا تعالیٰ نے دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔سب کچھ تری عطا ہے، گھر سے تو کچھ نہ لائے پس جو لوگ گھروں سے پڑھ کر آئے ہیں ، سلسلہ نے ان کی تعلیم پر کوئی خرچ نہیں کیا ، ان پر بھی کم ذمہ داری نہیں۔انہیں بھی خدا تعالیٰ نے دیا تھا تو وہ پڑھے تھے۔اگر خدا تعالیٰ انہیں توفیق نہ دیتا تو وہ کیسے تعلیم حاصل کر سکتے ؟ یہ صرف ایک پردہ ہے، ورنہ خدا تعالیٰ ہی سب کچھ کرتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ شکوہ پایا جاتا ہے کہ علماء تو سب نائی ، موچی اور دھوبی ہیں۔اور ایک حد تک ان کی یہ بات درست بھی ہے۔لیکن آخر ایسا کیوں ہوا؟ یہ اسی لئے ہوا کہ بڑے تاجروں اور زمینداروں نے خدمت دین سے اپنا ہاتھ بیچ لیا۔اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے تاجر اور زمیندار خدمت دین نہ کریں تو خدا تعالیٰ اپنے دین کو مرنے دے اور نائیوں اور دھوبیوں اور موچیوں کو بھی اس کے زندہ رکھنے کی توفیق نہ دے؟ جب تم نے دین سے ہاتھ کھینچ لیا اور خدا تعالیٰ نے نائیوں اور موچیوں کو دین کی خدمت کی توفیق دے دی تو اب تم چڑتے کیوں ہو؟ اب وہی تمہارے سردار ہیں اور انہیں کے پیچھے تمہیں چلنا ہوگا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو آجکل مسلمانوں کا حال ہے ، وہی آئندہ تمہارا ہو گا۔اگر تم نے بھی خدمت دین سے ہاتھ بھینچ لیا تو کچھ عرصہ کے بعد تمہاری نسلیں بھی یہی کہیں گی کہ نائیوں، دھوبیوں اور موچیوں نے علماء کی جگہ لے لی ہے۔آجکل بھی دیہات اور قصبات میں زیادہ تر عالم بر والے 399