تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 401

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم - اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 اکتوبر 1954ء یورپ میں دیکھ لو کہ کنٹر بری کا پادری ایڈورڈ ہفتم کے خلاف ہو گیا تو اسے تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔اب یہ کتنی بڑی طاقت ہے کہ ایک پادری ناراض ہو جاتا ہے تو بادشاہ بھی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔پس یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی قوم کو عزت ملے گی تو اس کے علماء کو بھی عزت ملے گی۔اسی طرح جب جماعت احمدیہ کو ترقی ملے گی تو تم اس وقت یہ کہو گے کہ نائی ، دھوبی اور موچی آگے آگئے ہیں۔اس وقت ہر شخص تمہیں یہی کہے گا بلکہ میرا یہ خطبہ نکال کر تمہارے آگے رکھے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے دین کی گاڑی کو اس وقت دھکا دیا، جب تم لوگ اس سے لاپر واہ ہو گئے تھے۔اب ان کا حق ہے کہ وہ آگے آئیں۔ہماری واقفین کی لسٹ کو بھی دیکھا جائے تو اس میں بڑے بڑے لوگوں اور ان کے بچوں کے نام لکھے ہیں۔لیکن جولوگ کام کر رہے ہیں، ان میں بڑے بڑے لوگوں کے بچے شامل نہیں۔جب کسی بڑے شخص کے بچے پڑھ رہے ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے، میرا فلاں بچہ واقف زندگی ہے، فلاں بچہ واقف زندگی ہے۔لیکن جب وہ پاس ہو جاتا ہے تو وقف میں آنے کا نام بھی نہیں لیتا۔ان کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے وہ یہ لکھتا تھا کہ میرا فلاں لڑکا وقف ہے، میرے دولڑ کے وقف ہیں، میرے تین لڑکے وقف ہیں، آپ دعا کریں کہ اللہ تعالی انہیں کامیابی عطا کرے۔لیکن تعلیم سے فارغ ہو جانے کے بعد ان کی بو بھی نہیں آتی۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب دعا کا وقت گذر گیا ہے۔پھر اگر بعد میں کوئی لڑکا بیمار ہو جاتا ہے تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کی نیت دوبارہ حاضر ہونے کی تھی ، ملازمت کرنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ کچھ تجربہ حاصل ہو جائے۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے تا کہ وہ دین کی خدمات بجالا سکے۔لیکن تندرست ہو جانے کے بعد وہ حاضر ہونے کا نام بھی نہیں لیتا۔گویا ان لوگوں نے وقف کو تجارت کا ذریعہ بنالیا ہے۔غرباء نے اسے وظیفے لینے کا ذریعہ بنایا ہے اور امراء نے دعا کا ذریعہ بنایا ہے۔اور کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ دین کی گاڑی چلے گی کیسے؟ اب یہ حالت ہے کہ ناظر بڑھے ہو گئے ہیں اور بعض کے تو اب جو اس بھی ایسے نہیں کہ وہ اس زیادہ دیر تک سلسلہ کا کام چلا سکیں۔لیکن ایسے آدمی سلسلہ کے پاس موجود نہیں ، جو ان کی جگہ کام کر سکیں۔آخر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نئے آدمیوں کو ان کی جگہ پر لگا دیا جائے۔چند سال تک انہیں بہر حال کام کا تجربہ حاصل کرنا پڑے گا ، پھر وہ ان جگہوں پر کام کر سکیں گے۔اس وقت بعض ناظر قبروں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور ان کے حواس بھی بجا نہیں۔نئے آدمی ہمارے پاس تیار نہیں اور سلسلہ کا کام نہایت خطرناک حالات میں سے گزر رہا ہے۔اس کی ذمہ داری جماعت کے سب افراد پر ہے۔خصوصا ایسے طبقہ پر ، جو اپنے آپ کو چودھری سمجھتا ہے۔چودھری کے لفظ سے میری مرادزمیندار نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں، جو اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔401