تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 83

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1949ء نے آپ سے بھی نہیں پوچھا اور نہ میں نے کبھی ایسے علم کے پوچھنے کی ضرورت کبھی۔اور واقعہ یہ ہے ؟ حضرت خلیفہ اول کے پاس جتنا روپیہ آتا تھا، اس سے بہت زیادہ روپیہ خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔اس کی وجہ اصل تو فضل الہی ہے اور ظاہری یہ کہ میں نے خدا تعالیٰ سے کبھی ٹھیکہ نہیں کیا۔ہم جب قادیان سے آئے ، اس وقت ہمارے خاندان کی تمام جائیدادیں پیچھے رہ گئی تھیں اور ہمارے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔بعض دوستوں کی امانتوں کا صرف نو سور و پیہ میرے پاس تھا۔ادھر ہمارے سارے خاندان کے دوسو کے قریب افراد تھے اور ان میں سے کسی کے پاس روپیہ نہیں تھا۔اس حالت میں بھی میں نے یہ نہیں کیا کہ لنگر سے کھانا منگوانا شروع کر دوں۔بلکہ میں نے سمجھا کہ وہ خدا، جو پیسے دیتا رہا ہے، اب بھی دے گا۔چنانچہ میں نے اپنے خاندان کے سب افراد سے کہا کہ تم فکر مت کرو، سب کا کھانا اکٹھا تیار ہوا کرے گا۔اور ایسا ہی ہوا۔اپنے خاندان کے تمام افراد کے کھانے کا انتظام میں نے کیا اور برابر کئی ماہ تک اس بوجھ کو اٹھایا۔آخر کسی نے چھ ماہ کے بعد اور کسی نے نو ماہ کے بعد اپنے اپنے کھانے کا الگ انتظام کیا۔اس عرصہ میں وہ لوگ جن کا روپیہ میرے پاس امانتا پڑا ہوا تھا ، وہ بھی اپنا روپیہ لے گئے۔اور ہمیں بھی خدا نے اس طرح دیا کہ ہمیں کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم کوئی اور تدبیر ایسی اختیار کریں، جس سے ہماری روٹی کا انتظام ہو۔میں جب تک لاہور نہیں پہنچا، ہمارے خاندان کے لئے لنگر سے کھانا آثار ہا تھا۔مگر جہاں تک مجھے علم ہے، اس کی بھی لنگر کو قیمت ادا کر دی گئی تھی۔اور اس کے بعد اپنے خاندان کے دوسو افراد کا بوجھ اٹھایا۔حالانکہ اس وقت ماہوار خرچ کھانے کا کئی ہزار روپیہ تھا۔غرض خدا دیتا چلا گیا اور میں خرچ کرتا چلا گیا۔اگر میں خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کرنے بیٹھا جاتا اور اس سے کہتا کہ پہلے میری تنخواہ مقرر کی جائے، پھر میں کام کروں گا اور خدا تعالیٰ خواب یا الہام کے ذریعہ پوچھتا کہ بتا تجھے کتنا روپیہ چاہیے؟ تو اس زمانے کے لحاظ سے جب میری ایک بیوی اور دو بچے تھے، میں زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا تھا کہ سوروپیہ بہت ہوگا۔مجھے ایک سوروپیہ ماہوار دے دیا جائے لیکن اگر میں ایسا کرتا تو آج کیا کرتا ، جبکہ میری چار بیویاں اور بائیس بچے ہیں اور بہت سے رشتہ دار ایسے ہیں، جو اس بات کے محتاج ہیں کہ میں ان کی مدد کروں؟ میرے وہ رشتہ دار، جن کا اب بھی میرے سر پر بوجھ ہے، ساٹھ ستر کے قریب ہیں۔اگر سوروپیہ میں اپنے لئے مانگتا تو ان کو ڈیڑھ ڈیڑھ روپیہ بھی نہیں آسکتا تھا۔پھر میں روٹی کہاں سے کھاتا، کپڑے کہاں سے بنواتا، اپنے بچوں کو تعلیم کس طرح دلاتا اور اپنے خاندان کے افراد کی پرورش کس طرح کرتا ؟ بہر حال میں نے خدا تعالیٰ سے یہ کبھی سوال نہیں کیا کہ تو مجھے کیا دے گا؟ اور خدا تعالیٰ نے بھی 83