تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 82

خطبہ جمعہ فرمود و 30 ستمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلدسوم با فراغت ہوں۔مگر سوال یہ ہے کہ میں نے تو کوئی شرط نہیں کی تھی۔جو کچھ خدا نے مجھے دیا، یہ اس کا احسان۔یہ کا ہے۔میر احق نہیں کہ میں اس کی کسی نعمت کو رد کروں۔لیکن جب میں آیا تھا ، اس وقت میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پہلے میرے بیوی بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت پیدا کی جائے ، اس کے بعد میں اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کروں گا۔یہ اس کا سلوک ہے، اس میں کسی بندے کو کوئی اختیار نہیں۔اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی تھے، جنہوں نے روٹی کھائی ہوتی تو وہ کہتے کہ فلاں مرید کو کہہ دو کہ وہ مجھے روٹی بھجوادے اور اس کے نبیوں میں حضرت سلیمان بھی تھے، جن کے دائیں بائیں دولت گر رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات میں داؤد کہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کے اس مختلف سلوک کی وجہ کیا ہے؟ یہ ایک راز ہے، جو اس نے اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ شاید کوئی شخص اور لحاظ سے تو کام کا اہل ہوتا ہے مگر اس کی صحت اور حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اسے روپیہ دیا جائے یا اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے وہ دنیا کا امتحان لینا چاہتا ہے۔بہر حال اس کا سلوک ہے یہی کہ کسی کو وہ بے انتہا دیتا چلا جاتا ہے اور کسی کو اپنی مصلحتوں کے مطابق مشکلات میں مبتلا کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ دعوی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خدا تعالیٰ اپنے پاس سے رزق دیتا ہے۔ہمارے ناناجان حضرت میر ناصر نواب صاحب کو سلسلہ کی خدمت کا شوق تھا اور وہ چندے کے لئے باہر چلے جاتے تھے۔اسی چندہ سے انہوں نے دار الضعفاء بنوایا، مسجد نور بنوائی ، اسی طرح اور تین چار کام کئے۔وہ باہر سے چندہ لالا کر یہ عمارتیں تعمیر کراتے تھے۔ان کے بڑھاپے کی عمر میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا، میر صاحب! ہمیں خدا نے ایک نسخہ بتایا ہوا ہے کہ جس کے نتیجہ میں ہمیں خود بخودرو پیٹل جاتا ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو بھی وہ نسخہ بتا دوں؟ اس کے بعد آپ کو باہر چندہ کے لئے جانے کی ضرروت نہیں رہے گی۔میر صاحب مرحوم نے جواب دیا کہ آپ جو بتائیں گئے ، اس کے نتیجہ میں مجھے جو کچھ ملا، اسے دیکھ کر میرے دل میں یہی خیال پیدا ہوگا کہ آپ کے نسخہ کی وجہ سے یہ روپیہ ملا ہے۔مگر اب تو یہ مزہ آتا ہے کہ خدا خود اپنے پاس سے روپیہ دے رہا ہے۔یہ مزا آپ کے نسخہ سے جاتا رہے گا۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ساری عمر میں صرف ایک شخص کے آگے اس نسخہ کو پیش کیا اور اس نے بھی لینے سے انکار کر دیا۔حضرت خلیفہ اول نے بار ہا میرے سامنے بھی یہ بات بیان کی اور ایسے رنگ میں بیان کی کہ گویا آپ چاہتے تھے کہ میں اس کے متعلق آپ سے سوال کروں۔مگر میں 82