تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 84

خطبہ جمعہ فرمود و 30 ستمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میرے ساتھ بھی سودا نہیں کیا۔میں نے خدا تعالیٰ سے یہی کیا کہ مجھے ملے نہ ملے، میں تیرا بندہ ہوں اور میرا کام یہی ہے کہ میں تیرے دین کی خدمت کروں۔اور اس کے بعد خدا تعالیٰ نے بھی یہی کیا کہ یہ سوال نہیں کہ تیری لیاقت کیا ہے؟ یہ سوال نہیں کہ تیری قابلیت کیا ہے؟ ہم بادشاہ ہیں اور ہم اپنے بادشاہ ہونے کے لحاظ سے تجھے اپنی نعمتوں سے متمتع کرتے رہیں گے۔غرض خدا سے سچا تعلق رکھنے والا انسان ہمیشہ آرام میں رہتا ہے۔لیکن فرض کرو ، وہ یہی فیصلہ کر دیتا ہے کہ ہم بھو کے مر جائیں۔تو کم از کم مجھے تو وہ موت نہایت شاندار معلوم ہوتی ہے، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں بھوکے رہ کر حاصل ہو، بجائے اس کے ہم پیٹ بھر کر خدا تعالیٰ کے راستہ سے الگ ہو جائیں۔اگر ہم اس کی راہ میں بھوکے مر جائیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے ہم کتنی شان سے پیش ہوں گے، کتنے دعوئی کے ساتھ پیش ہوں گے کہ ہم نے تیرے لئے بھوکے رہ کر اپنے جان دے دی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ زندگی وقف کرنے والے نو جوانوں کے جدید حصہ میں اب وہ تو کل نہیں ، جو ایک سچے مومن کے اندر ہونا چاہیے۔حالانکہ اگر سلسلہ ان کو ایک پیسہ بھی نہ دے اور وہ تو کل سے کام لیں تو یقینا ز مین ان کے لئے اگلے گئی اور آسمان ان کے لئے اپنی نعمتیں برسائے گا۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب زلزلہ کے الہامات کی وجہ سے باغ میں تشریف لے گئے تو ایک دن آپ نے گھر میں حضرت ام المومنین سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ روپیہ بالکل نہیں رہا، ہمارا خیال ہے کہ بعض دوستوں سے قرض لے لیا جائے۔مگر پھر آپ نے فرمایا کہ یہ بھی تو کل کے خلاف ہے۔اس کے بعد آپ مسجد میں گئے اور نماز ہوئی ، جب واپس آئے تو آپ نے ایک پوٹلی نکالی اور اس کو کھولا اور پھر اسے کو دیکھ کر فرمانے لگے (میں بھی اس وقت پاس ہی کھڑا تھا ) کہ جب میں نماز کے لئے باہر گیا تو ایک غریب آدمی، جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے ، اس نے یہ پوٹلی ہماری جیب میں ڈال دی۔اور چونکہ بوجھل تھی ، میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے وغیرہ ہوں گئے۔مگر جب گھر آکر میں نے اس پوٹلی کو کھولا تو اس میں سے روپے اور نوٹ نکلے۔پھر آپ نے ان روپوں اور نوٹوں کو گنا تو وہ چار پانچ صد کے قریب نکلے۔آپ نے فرمایا ، اگر ہم قرض لیتے تو یہ توکل کے خلاف ہوتا۔ادھر ہمیں ضرورت پیش آئی اور ادھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے ذریعہ سے روپیہ بہم پہنچا دیا ، جس کا ہمیں و ہم اور خیال بھی نہیں تھا۔میں نے خود اپنی ذات میں خصوصاً قادیان سے نکلنے کے بعد خدا تعالیٰ کے ایسے ہی نشانات دیکھے ہیں۔ایسے انسان، جن کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ وہ اس بات کے محتاج ہیں کہ میں ان کی مدد کروں۔وہ اصرار کر کے مجھے ایسی رقوم دے گئے کہ میرے وہم میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ اتنا روپیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔84