تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 81

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1949ء ہم چاہتے ہیں کہ یہ جگہ، ایک مثالی جگہ ہو۔جس طرح ظاہر میں ہم اسے دین کا مرکز بنار ہے ہیں، اسی طرح حقیقی طور پر یہاں کے رہنے والے سب کے سب افراد دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور بقدر ضرورت وہ دنیا کا کام بھی کرتے ہوں لیکن ان کا اصل مقصد دین کی خدمت اور اس کی اشاعت ہو۔یوں تو صحابہ بھی دنیا کے کام کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں کوئی ایک سپاہی بھی ایسا نہیں تھا، جو تنخواہ دار ہوں۔کوئی دکاندار تھا، کوئی زمیندار تھا، کوئی مزدور تھا، کوئی لوہار تھا، کوئی ترکھان تھا۔غرض سارے کے سارے پیشہ ور تھے۔جس طرح آپ لوگوں کی دکانیں ہیں ، اسی طرح ان کی بھی دکانیں تھیں۔جس طرح آپ لوگوں کی زمینداریاں ہیں، اسی طرح ان کی بھی زمینداریاں تھیں۔اگر آپ لوگ مختلف پیشوں سے کام لیتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں یا بڑھئی یا لوہار کا کام کرتے ہیں تو وہ بھی یہ سب کام کرتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کے لئے نکلتے تو وہ سب کے سب آپ کے ساتھ چل پڑتے تھے۔اس زمانہ میں جنگ تھی، اس زمانہ میں تبلیغ کا کام ہمارے سپرد ہے۔آپ صحابہ سے فرماتے چلو تو سب چل پڑتے تھے۔وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی۔پھر یہ بھی نہیں کہ ان کے بیوی بچے نہیں تھے۔آج کل لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر ہم دین کی خدمت کے لئے جائیں تو ہمارے بیوی بچوں کو کون کھلائے گا؟ سوال یہ ہے کے آیا صحابہ کے بیوی بچے تھے یا نہیں ؟ اگر تھے تو جنگ پر جانے کے بعد انہیں کون کھلاتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی ترقی قربانی سے وابستہ ہے، روپیہ ایک عارضی چیز ہے۔جیسے تحریک جدید کے ابتدا میں ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ روپیہ ایک ضمنی چیز ہوگی۔تحریک جدید کی اصل بنیاد وقف زندگی پر ہوگی۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب واقفین میں سے ایک حصہ کا رجحان روپیہ کے طرف ہورہا ہے اور وہ یہ سوال کر دیا کرتے ہیں کہ ہم کھائیں گے کہاں سے؟ حالانکہ وقف کی ابتدائی شرطوں میں ہی صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ زندگی وقف کرنے والا ہر قسم کی قربانی سے کام لے گا اور وہ کسی قسم کے مطالبے کا حقدار نہیں ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خدا کے لئے قربانی کرتا ہے، خدا خود اس کا مددگار ہو جاتا ہے۔آخر ہمارے وقف کے دوہی نتیجے ہو سکتے ہیں یا تو ہمیں کچھ ملے یا نہ ملے۔میں ”ہمارے“ کا لفظ اس لئے کہتا ہوں کہ میں بھی جوانی سے دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور میں جب دین کی خدمت کے لئے آیا تھا، اس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے یا خدا تعالیٰ کے نمائندوں سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ میں اور میرے بیوی بچے کہاں سے کھائیں گئے ؟ مگر اب تم میں سے کئی لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ میرے پاس روپیہ بھی ہے اور میں کھاتا پیتا بھی 81