تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 74
خطبہ جمعہ فرموده 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کے ایک لاکھ ، سات ہزار کے وعدوں میں سے ایک لاکھ، دس ہزار کی وصولی تھی۔یعنی وعدہ سے زیادہ رقم وصول ہوئی تھی۔لیکن دفتر دوم کے نوجوان کی ہمتوں پر افسوس ہے کہ ایک لاکھ، چھ ہزار کے وعدوں میں سے صرف 54 ہزار کی وصولی ہوئی ہے اور سال ختم ہو گیا ہے۔وہ وعدوں میں بھی پیچھے رہے اور ادائیگی میں بھی پیچھے رہے۔اور یہی حالت پچھلے سال کی تھی۔پچھلے سال بھی پچاس ہزار کے قریب وصول ہوا تھا اور اس سال بھی۔اگر یہ لوگ بھی اپنے وعدوں کو پورا کر دیں تو تین لاکھ کی وصولی گزشتہ سالوں کے وعدوں سے ہو سکتی ہے اور قرضہ نولاکھ سے چھ لاکھ پر آجاتا ہے۔اگر نئے نوجوان اپنے فرض کو سمجھیں تو نئی پود کے وعدے ساڑھے تین لاکھ سے کم نہیں ہونے چاہئیں۔اور اگر ان کے وعدے اس حد تک پہنچ جائیں تو امید ہے کہ دور اول کے ختم ہونے پر ہم اس بوجھ کو بوڑھوں کے کندھوں سے اتار کرنی پود کی قربانی سے جاری رکھ سکیں گے۔آخر پانچ سال کے بعد دور اول ختم ہو جائے گا۔اور اگر وہ ختم نہ بھی ہو اور پرانے لوگ بھی چندے دیتے رہیں تو بھی نوجوانوں کے لیے یہ عزت کی بات نہیں بلکہ ذلت کی بات ہوگی کہ وہ اپنا فرض پوری طرح ادا نہیں کر سکے۔یہ تو ایسا ہے کہ نوجوان گھر بیٹھا کھائے اور بوڑھا کمائے۔نوجوان خود تو اس بوجھ کو نہ اٹھائیں بلکہ اسی نوے سالہ بوڑھوں سے کہیں کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا ئیں۔انہیں چاہئے کہ نہ صرف اپنے وعدوں کو اس پیمانہ پر لے جائیں کہ وقت آنے پر تبلیغ کا سارا بوجھ ان کے چندوں سے پورا ہو سکے۔دور اول تین لاکھ اسی ہزار تک پہنچا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ اسے پانچ لاکھ تک پہنچا دیں تو پھر تیسرے دور والوں سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسے آٹھ لاکھ تک پہنچادیں گے اور اس سے اگلے دور والے اسے دس، بارہ لاکھ تک پہنچا دیں گے۔اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ ہم بیرونی ممالک میں تبلیغ کا جال پھیلا دیں گے اور اس کے ذریعہ اسلام کا قلعہ ہر ملک میں قائم کر دیں گے۔اس کے لیے ارادہ کی ضرورت ہے ، نیت کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ضرورت ہے، ایسے باپوں کی ، جو اپنی اولا د کو کہیں کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اس کے لیے ضرورت ہے، ایسی ماؤں کی، جواپنی اولاد کو ہیں کہ وہ اس جہاد سے پیچھے نہ رہے۔اس کے لیے ضرورت ہے، ایسی بیویوں کی ، جو اپنے خاوندوں سے کہیں کہ اس جہاد میں ان کی گردن میں کسی سے نیچے نہ ہوں۔اس کے لیے ضرورت ہے، ایسے نوجوانوں کے حوصلہ کی ، جو یہ کہیں کہ ہم اپنے زمانہ کے بوجھ کو دوسروں پر کیوں ڈالیں؟ اگر قوم کے اندر ایسی ہمت اور امنگ پیدا ہو جائے تو ان کے سامنے کوئی چیز روک نہیں بنا کرتی۔روپیہ سے ہی صرف کام نہیں چلا کرتا، جانوں سے بھی تو تم اپنے دین کی خدمت کر سکتے ہو۔تمہارے لیے دو مثالیں موجود ہیں۔ایک ہسپانیہ کے ملک کی ، جو بہت گراں ہے اور تمام دوسری طاقتوں 74