تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 75

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم نے اس کا محاصرہ اور بائیکاٹ کر رکھا ہے۔وہاں کا مبلغ خود پیسے کما کر لڑ پچر شائع کرتا ہے اور فرانس میں بھی ہمارے مبلغ نے سراٹھانا شروع کر دیا ہے۔آہستہ آہستہ وہاں بھی کام ہونا شروع ہو جائے گا۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس میں روپیہ کی قربانی کی ہمت نہیں تو وہ اپنی جان پیش کر دے اور خود کمائے اور خدمت دین کرے۔اور جس کے پاس روپیہ ہے، وہ روپیہ پیش کر دے۔جس طرح دو بیل ایک گاڑی کو چلاتے ہیں، اسی طرح یہ دو چیزیں ہی ایسی ہیں، جن سے قومی گاڑی چلتی ہے۔قرآن کریم میں متواتر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کا مال اور ان کی جانیں لے لی ہیں اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔اور یہی چیز تحریک نے پیش کی ہے۔ایک طرف وہ نو جوانوں سے کہتی ہے کہ آؤ اور خدمت دین کے لیے اپنی جانوں کو پیش کر دو۔یہ وہی چیز ہے، جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تم سے تمہاری جانیں اور تمہارے مال خرید لیے ہیں۔تحریک جدید اس پیشگوئی کے ماتحت جنت کو پیش کر کے تم سے مطالبہ کرتی ہے کہ تم اپنے مال اور جانیں پیش کر دو۔کیونکہ قوم کی گاڑی دوہی بیلوں سے چلا کرتی ہے اور وہ جان اور مال ہیں۔کوئی شخص اگر مال کی قربانی کی توفیق نہیں پاتا تو وہ اپنی جان پیش کر دیتا ہے اور کہتا ہے، لو یہ روپیہ اور اس سے لڑ پچر شائع کرو، ریلوں اور ہوائی جہازوں میں جاؤ اور با ہر تبلیغ کرو۔یہ دونوں مطالبے ہوتے ہیں، جو تحریک جدید میں شامل ہیں۔اس کا کے لیے انیس اور بیس سال کی شرط نہیں۔انیس اور بیس کا سوال تو افراد کے لیے ہے، جنہوں نے مرجانا ہے۔خدا تعالیٰ کے کام تو قیامت تک چلے جاتے ہیں۔میرے لیے انیس اور بیس سال ہو سکتے ہیں، تمہارے لیے انیس اور نہیں ہو سکتے ہیں تحریک جدید کے لیے نہیں۔تبلیغ کے لیے سال نہیں ہوتے۔اگر آخری انسان بھی زندہ ہے اور وہ خدا تعالیٰ اور اسلام سے محبت کرتا ہے تو وہ اسلام کے پھیلانے کی کوشش کرتا رہے گا اور کرتا چلا جائے گا“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 05 دسمبر 1948ء) 75