تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 73

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم احب کہا کرتے تھے۔اگر چہ وہ مولوی نہیں تھے۔وہ بڑے دیندار تھے اور ابھی تک زندہ ہیں۔میں نے کہا، کیوں مولوی صاحب کیا زمین کم ہے یا کوئی اور بات ہے؟ وہ بڑی سادگی سے کہنے لگے، چار کنال زمین میرے باپ کی تھی اور دو کنال ارد گرد لے لی ہے، زمین کافی ہے۔کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہے۔دیکھو، وہ چھ کنال کو ہی کافی زمین سمجھا کرتے تھے۔اب ایسے لوگوں کو دس ایکٹر مل گئے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہیں، جن کی وہاں کنووں والی زمین تھی ، اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے۔بس ان کی حالت اچھی ہوگئی ہے، اب انہیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض ایسے بھی ہیں، جن کی ادھر آسودہ حالت تھی ، اب وہ لٹ گئے ہیں۔وہاں وہ دس ہیں لاکھ چھوڑ کر آئے ہیں، یہاں ان کی پیسے کی آمد بھی نہیں۔انہیں جانے دو، ایسے لوگ بہت کم ہیں۔اکثر حصہ غرباء کا ہے، جو ہزاروں سے لکھ پتی بن گئے ہیں۔جن کی وہاں دس کنال زمین تھی ، اب انہیں دس ایکڑ زمین مل گئی ہے۔پہلے ان کی بارانی زمین تھی ، اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے۔یا پہلے ان کی چاہی زمین تھی ، اب انہیں نہری زمین مل گئی ہے۔ان کو بھی اپنے حصہ سے، جو اس بوجھ میں ان کا ہے، پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔پھر میں مغربی پاکستان والوں کو لیتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل کیا ہے کہ اس نے انہیں اس تباہی سے بچایا ہے۔انہوں نے اس طرف اپنی جائیداد کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا لیکن اس طرف انہوں کا نے دوسروں کے ساتھ برابر کا حصہ لیا ہے۔سینکڑوں ایسے آدمی ملتے ہیں، جن کی پہلے کوئی جائیداد نہیں تھی ، اب کارخانوں کے مالک بن گئے ہیں۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو ہندوستان سے باہر گئے ہوئے تھے۔فسادات میں وہ یہاں آگئے تالوٹ مار میں ان کو بھی حصہ مل جائے۔بہت شہروں میں ایسا ہوا ہے۔بہر حال اکثر کی اقتصادی حالت پہلے سے بہت اچھی ہے۔جن کی حالت پہلے سے خراب ہے ، وہ چند ہی ہیں۔ان کی وجہ سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ایسے لوگ سو میں سے دو یا چار ہوں گے۔پہلے تو میں ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نئے سال سے نئے وعدے لکھوائیں۔ادھر پھر جو ستر ، اسی ہزار کے وعدے گزشتہ سال کے پورا ہونے سے رہ گئے ہیں، انہیں بھی جلد پورا کریں۔اس طرح ساٹھ ستر ہزار کے وعدے، جو گزشتہ سال سے پہلے کے سالوں کے پورا ہونے سے رہ گئے ہیں، انہیں بھی پورا کریں۔اگر یہ وعدے پورے ہو جائیں تو قرضے میں ڈیڑھ لاکھ کی کمی ہو جائے گی۔اس کے بعد دفتر دوم والوں کو لیتا ہوں۔میں ان نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں ان پر بہت زیادہ امید تھی۔مگر افسوس ہے کہ وہ قربانی میں بہت پیچھے ہیں۔دور اول کے پہلے سال کے وعدے ایک لاکھ ، سات ہزار کے نکلے تھے اور دفتر دوم کے چوتھے سال ایک لاکھ، چھ ہزار کے وعدے تھے۔دوراؤل 73