تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 62
اقتباس از خطبه عیدالاضحیه فرموده 14 اکتوبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلوں کے زنگ دور کرے اور ان کی آنکھوں کو کھوئے۔ان کی غفلتوں اور کوتاہیوں کو دور کرے اور انہیں صحیح طور پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تا جس طرح وادی غیر ذی زرع میں بسنے والے اسماعیل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک نورانی چراغ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صورت میں روشن کیا، جس سے تمام دنیا جگمگا اٹھی ، اسی طرح خدا محمدیت کے باغ میں سے ایک نیا پودا پھوڑے، جو ساری دنیا کو اسلام اور صداقت کی طرف کھینچ لانے کا موجب ہو۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ پودا خدا نے پیدا کر دیا ہے۔کاش مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ آج سوائے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کے ان کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔اور اس شخص کے ہاتھ پر تمام دنیا کے لوگ اکٹھے ہو سکتے ہیں، جسے خدا نے کھڑا کیا ہو۔کوئی انسانی ہاتھ ساری دنیا کومتحد نہیں کر سکتا۔عرب عراق کے ہاتھ پر جمع نہیں ہو سکتا۔عراق، سعودی عربیہ کے ہاتھ پر جمع نہیں ہوسکتا۔مصر، شام کے ہاتھ پر اکٹھا نہیں ہوسکتا اور یہ عربی علاقے پاکستان کے ہاتھ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے اور پاکستان ان کی اتباع نہیں کر سکتا۔ہر شخص کو اپنی آزادی پیاری ہوتی ہے۔کون ہے، جو دوسرے کے لئے اپنی آزادی قربان کر دے؟ اسی کے لئے اپنی آزادی قربان کی جاسکتی ہے، جس کے متعلق انسان کو یہ یقین ہو کہ اس کا ہاتھ انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا کا ہاتھ ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک جرمن نو مسلم کا خط میرے نام آیا۔جو بڑے اخلاص اور محبت کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔میں نے اسے جواب میں لکھا کہ کیا یہ ممکن تھا کہ جرمن کے لوگ ہندوستانیوں کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ؟ یہ خدا کا ہاتھ ہی ہے، جو تمہیں ہندوستان میں رہنے والے ایک شخص کی طرف کھینچ لایا۔ورنہ وہ لوگ جو ایشیا اور ہندوستان میں رہنے والوں کو ذلیل سمجھا کرتے تھے، ان سے یہ کب امید ہو سکتی تھی کہ وہ ان کی اطاعت کریں گے؟ یہ خدا کے ہاتھ کی ہی برکت ہے کہ اسی ہاتھ پر سب دنیا جمع ہو گی اور اسی سے ساری دنیا ایک دن عدل وانصاف سے بھر جائے گی۔اب میں دعا کر دیتا ہوں ، سب دوست میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو حقیقی طور پر ابراہیم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور باقی مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھولے۔تاوہ اپنے اس فرض کو پہچانیں، جو ان پر عائد ہوتا ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ نور، جو آج دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے اور جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہمارے ذریعہ سے پھر ظاہر ہو، اس میں وہ اپنی غفلتوں اور سستیوں سے روک نہ بنیں۔بلکہ اس جماعت میں شریک ہو کر اللہ تعالیٰ کے نور کے پھیلانے میں ممد ہوں۔تا جلد سے جلد اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو اور وہ اس دنیا کی حالت کو بدل دے۔مطبوعه روزنامه الفضل 08 مارچ 1949ء) 62