تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 63
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء تحریک قرآنی پیشگوئی کے تحت جنت کے بدلہ مال اور جان کا مطالبہ کرتی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1948ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تحریک جدید کے چودھویں سال کی تحریک پر ایک سال گزر چکا ہے اور اب نیا سال آگیا ہے۔جس میں کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کے لئے پندرھویں سال کا وعدہ کرنا ہے۔اس لئے آج میں دور اول کے دوستوں کو پندرھویں سال کے وعدوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے تحریک جدید کے ذمہ ہندوستان سے باہر کی تبلیغ کے سارے کام ہیں۔اور مبلغین کی تیاری اور واقفین کی تیاری کا کام بھی اس کے ذمہ ہے۔اس کے علاوہ بعض اور کام ، جو صدر انجمن احمدیہ کو کرنے چاہئے تھے لیکن اس نے نہیں کئے یا وہ ان کی طرف توجہ نہیں کر سکی ، وہ بھی اسی کے ماتحت آگئے ہیں۔مثلاً سائنٹیفک ریسرچ صنعت و حرفت کا محکمہ ہے، تجارت کا محکمہ ہے اور ان کے ذریعہ گو بہت آہستہ آہستہ مگر کچھ نہ کچھ ترقی کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔اس طرح تحریک جدید کے ذریعہ سے بیرونجات کے مشن خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ترقی کر چکے ہیں۔بہت سی نئی جگہوں میں تبلیغ کا کام شروع ہو چکا ہے اور بہت سی پہلی جگہوں میں کام پہلے سے زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔تحریک جدید کے شروع ہونے سے پہلے ایران میں ہمارا کوئی مبلغ نہیں تھا۔لیکن اس وقت وہاں ہمارے دو مبلغ کام کر رہے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ ایران میں ، جہاں ہمارے خاندان یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا درمیانہ قدم پڑا تھا، ہمارا خاندان بخارا سے نکل کر پہلے ایران میں بسا اور وہاں سے پھر ہندوستان آیا تھا۔مشن قائم ہوئے پانچ سال ہو گئے ہیں۔لیکن اس وقت تک وہاں ایک بھی احمدی نہیں ہوا۔تحریک ضرور ہے اور کچھ لوگوں سے آہستہ آہستہ تعلقات بھی پیدا ہور ہے ہیں لیکن ابھی تک وہاں احمدیت پھیل نہیں سکی۔اور یہی ایک ایسا ملک ہے، جہاں باوجود اس کے کہ ہمارے مبلغ پانچ سال سے جاچکے ہیں لیکن پھر بھی وہاں کوئی مقامی احمدی نہیں ہوا۔تحریک جدید کے ماتحت دوسرامشن، جو قائم ہوا یا یوں کہو کہ دوسرامشن، جسے تقویت حاصل ہوئی ، مشن وہاں پہلے سے ہی قائم تھا مگر اب وہاں مبلغ زیادہ ہو گئے ہیں اور کام زیادہ ہور ہے ہیں، وہ فلسطین کا 63