تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 658

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 اپریل 1957ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم عورت ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو اسے زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کی حقارت پائی جاتی ہے اور انگریزوں کے دلوں میں ہندوستانیوں کی حقارت پائی جاتی ہے۔مگر انگریزوں کا ہندوستانیوں پر ابھی تک رعب قائم ہے۔اگر کوئی انگریز ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو وہ فوراما ننے کو تیار ہو جائیں گے۔پس اگر وہ عورت ہندوستانیوں میں تبلیغ کرے تو ممکن ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے۔مغربی افریقہ سے ایک اور خوشکن اطلاع یہ آئی ہے کہ وہاں کے ایک احمدی دوست ، جو بڑے رئیس ہیں، اسمبلی کی ممبری کے لئے کھڑا ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، پہلے بھی وہ اسمبلی کے ممبر تھے مگر اب وہ اسمبلی ٹوٹ گئی ہے، نئے انتخاب ہونے والے ہیں، اس دفعہ ان کی پارٹی کو ان پر اتنا اعتبار ہے کہ وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ شاید وہ وزیر ہو جائیں۔دوست ان کے لئے دعا کریں کہ وہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہو جائیں۔یہاں پاکستان میں تو ہمیں خالی ممبریاں ملنی بھی مشکل ہیں ،مگر ان علاقوں میں ہمارے دوست اگر چه تعداد میں تھوڑے ہیں، مگر وہ وزارتوں پر بھی ہاتھ مارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اگر وزارت میں ہمارا کوئی آدمی آجائے تو وہ بڑا مفید ہوسکتا ہے۔مثلاً آج ہی شائع ہوا ہے کہ غانا کی حکومت نے ساری افریقی حکومتوں کو دعوت دی ہے کہ ہم سب ایک مشترکہ اجلاس کریں۔اگر ہمارا کوئی آدمی وزارت میں آجائے تو دوسرے ممالک سے تعلقات پیدا کرنے کا موقع نکل سکتا ہے۔اور بالکل ممکن۔کہ ہمارے تعلقات سوڈان کے وزراء سے بھی ہو جائیں، لیبیا کے وزراء سے بھی ہو جائیں، حبشہ کے وزراء سے بھی ہو جائیں، لائبیریا کے وزراء سے بھی ہو جائیں اور ان سارے علاقوں میں تبلیغ کے نئے رستے کھل جائیں۔وہ لوگ ہیں تو بہت وسیع الخیال مگر لوگوں سے ڈرتے ہیں۔مثلاً لیبیا کے بادشاہ نے ہے وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے ملک میں آپ لوگوں کا مبلغ آنے دوں گا، لیکن بعد میں لوگوں سے ڈر گیا۔پس دعا کرو کہ تبلیغ کے جو نئے رستے کھل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں ہمیں کامیابی بخشے اور ان کے علاوہ اور بھی نئے راستے کھولے۔پھر دوست یہ بھی دعا کریں کہ ہمارا اردوترجمة القرآن عمدگی کے ساتھ شائع ہو جائے اور پھر تفسیر بھی لکھی جائے۔قرآن کریم کے تراجم میں سے روسی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اب امریکہ میں اس پر نظر ثانی ہورہی ہے۔انگریزی میں بھی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ڈچ زبان میں بھی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔جرمنی میں بھی شائع ہو چکا ہے۔سپینش زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔یہ پانچ تراجم ہو گئے۔ان کے علاوہ پرتگیزی اور اٹالین زبانوں میں بھی تراجم ہورہے ہیں۔یہ دونوں ملا کر سات تراجم ہیں، جو ہماری طرف سے یوروپین زبانوں میں ہو چکے ہیں یا ہورہے ہیں۔پھر ہندی اور گورکھی 658