تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 659 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 659

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 19 اپریل 1957ء زبانوں میں بھی تراجم ہورہے ہیں۔اردو ترجمہ مکمل ہو جائے تو یہ دس تراجم ہو جائیں گے۔انڈو نیشین زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ ہورہا ہے۔سواحیلی زبان میں بھی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔یوگنڈ از بان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔اسی طرح اب مشرقی افریقہ سے یہ اطلاع آئی ہے کہ ٹانگا نیکا کے علاقہ کی زبان چونکہ دوسرے علاقوں سے مختلف ہے، اس لئے وہاں کی زبان میں بھی ترجمہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ سارے تراجم شائع ہو گئے تو پندرہ، میں تراجم ایسے ہوں گے، جو ہماری جماعت کی طرف سے شائع ہوں گے اور ان کے ذریعہ سے جو لوگ مسلمان ہوں گے ، ان کا ثواب ساری جماعت کو پہنچے گا۔کیونکہ یہ کام اسی طرح ممکن ہوا ہے کہ ہمارے ایک غریب سے غریب آدمی نے بھی اپنی تھوڑی بہت پوچھی لا کے دے دی۔ہماری جماعت کی حالت اس بڑھیا عورت کی سی ہے، جو سوت کی دوائیاں لے کر حضرت یوسف کو خریدنے کے لئے آئی تھی۔قصہ مشہور ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام بازار میں فروخت ہونے کے لئے آئے تو ایک بڑھیا بھی آئی اور اس نے کہا، میں نے بھی بولی دینی ہے۔کسی نے کہا، بی بی بولی دینے کے لئے تیرے پاس روپیہ بھی ہے۔اس نے کہا، روپیہ تو میرے پاس موجود نہیں ، یہ دوسوت کی اٹیاں ہیں۔اس نے کہا، جب تیرے پاس روپیہ ہی نہیں ہے تو تو بولی دینے کے لئے کیوں آئی ہے؟ اس نے جواب دیا، میں نے یہ سمجھا تھا کہ شاید اور کوئی بولی دینے والا نہ ہو اور مجھے ان دوسوت کی اٹیوں کے بدلہ میں ہی یوسف مل جائے۔ہماری مثال بھی اس عورت کی سی ہے۔تم نے بھی اپنی سوت کی اشیاں پیش کر دی ہیں۔مگر یوسف کی خریدار بڑھیا عورت تو اپنی دوائیاں لے کر واپس چلی گئی تھی، اسے یوسف نہیں ملا تھا۔مگر خدا نے تمہاری انیوں کو قبول کر لیا ہے اور تم کو یوسف قرآن مل گیا ہے۔گوتمہارے چندے اور تمہاری قربانیاں یوسف کو خریدنے والی بڑھیا کی طرح ہی تھیں۔مگر خدا تعالیٰ نے تمہاری اٹیوں کو قبول کر لیا اور قرآن کریم کا یوسف تمہیں مل گیا۔لیکن اس بڑھیا کی اٹیوں کو قبول نہ کیا گیا اور یوسف بادشاہ کے ایک وزیر کے گھر میں پہنچ گئے۔مگر تمہارا یوسف تمہیں ایسا ملا ہے کہ مصر کے ایک شدید مخالف اخبار نے بھی لکھا کہ گذشتہ تیرہ سوسال سے مسلمان بادشاہ بھی موجود تھے، اسلامی حکومتیں بھی تھیں، مگر ان میں سے کسی کو اسلام پھیلانے کی وہ توفیق نہ ملی، جو اس غریب جماعت کو ملی ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ، ورنہ من آنم کہ من دانم 659