تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 589

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء وقف زندگی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے بعض اہم تجاویز خطبہ جمعہ فرمودہ 09 مارچ 1956ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔وقف زندگی کے متعلق جو مطالبات میں نے پڑھے ہیں، وہ بدر اخبار میں شائع ہوئے ہیں۔ان پر باہر کے لوگوں کو بھی غور کرنے کا موقع ملا ہے۔چنانچہ متعدد دوستوں کی طرف سے مجھے خطوط آئے ہیں، جن میں انہوں نے بعض تجاویز لکھی ہیں۔ان تجاویز میں سے بعض تو معقول ہیں اور بعض ایسی ہیں، جن کا ذکر میرے گذشتہ خطبات میں بھی آچکا ہے اور بعض ایسی ہیں ، جو اظہار جوش اور فکر پر تو دلالت کرتی ہیں لیکن وہ قابل عمل نہیں ہیں۔اور بعض ہیں، جو درست ہی نہیں۔بہر حال ان خطوط میں سے میں نے بعض امور نوٹ کئے ہیں تاکہ دوستوں کے سامنے ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔اب میں اختصاراً اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ بچوں کو بچپن سے ہی اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہئے کہ انہوں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے اور اس غرض کے لئے ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کا خادم بنتا ہے۔میرے نزدیک ان کی یہ بات بالکل درست ہے اور اس پر دوستوں کو عمل کرنا چاہئے۔اس نوجوان نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں چھوٹا تھا تو میرے ماں باپ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم اس انتظار میں ہیں کہ تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بنے۔میرے کان میں متواتر یہ بات پڑتی رہی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا، میں بڑا ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور میں ملازمت کے لئے کراچی پہنچ گیا۔اب دین کی خدمت کا خیال آتا ہے تو ساتھ ہی افسوس ہوتا ہے کہ یہ خیال اس وقت کیوں نہ آیا، جب میں دین کی خدمت کے لئے مفید وجود ہو سکتا تھا ؟ مگر یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ میرے والدین نے بچپن سے ہی میرے کانوں میں یہ بات ڈالی تھی کہ میں نے بڑے ہو کر افسر بننا ہے۔انہوں نے یہ بات میرے کانوں میں نہ ڈالی کہ میں نے بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے۔589