تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 590
خطبه جمعه فرموده 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تحت یہ ہے کہ ماں باپ کی تعلیم بڑے بھاری نتائج پیدا کرتی ہے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی چور تھا، وہ چوری کے لئے کسی گھر میں گیا۔اتفاقاً گھر والے جاگ رہے تھے ، انہوں نے اس چور کو گھیر لیا۔چور کو ڈر پیدا ہوا کہ اگر میں پکڑا گیا تو مجھے جیل خانہ بھیج دیا جائے گا اور عدالت سے مجھے سزا ملے گی ، اس لئے بہتر ہے کہ محفوظ نکل جانے کی کوئی صورت پیدا کروں۔چنانچہ اس نے گھر والوں سے لڑائی شروع کر دی، جس میں ایک آدمی مارا گیا۔آخر وہ پکڑ لیا گیا اور عدالت سے اسے پھانسی کی سزا ملی۔عام طور پر مشہور ہے، معلوم نہیں ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں کہ جیل خانہ کا یہ قاعدہ ہے یا کسی زمانہ میں قاعدہ ہوا کرتا تھا کہ جب کسی کی پھانسی کا وقت قریب آئے تو جیل کے ملازم اس سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر کوئی خواہش ہو تو وہ بیان کر دے۔اگر وہ خواہش قانون کے لحاظ سے جائز ہوتی تو وہ اسے پورا کر دیتے۔اس دستور کے ماتحت اس چور سے بھی دریافت کیا گیا کہ اس کی کوئی خواہش ہو تو بیان کر دے۔اس نے کہا، میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں۔جیل خانہ والوں نے اس کی ماں کو بلایا اور اس کی ملاقات کا انتظام کر دیا۔اس نے کہا، میں نے اپنی ماں کو علیحدگی میں ملنا ہے۔چنانچہ پردہ ڈال دیا گیا تا وہ اپنی ماں سے علیحدگی میں بات کرے۔جب اس کی ماں علیحدگی میں ملنے کے لئے گئی تو اس نے کہا، میں تمہارے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس نے اپنا کان اس کی طرف کر دیا۔اس کا اس طرف کان جھکا نہ تھا کہ یکدم وہ چیخنے لگ گئی اور اس نے کہنا شروع کر دیا، ہائے میں مرگئی ، ہائے میں مرگئی۔پولیس نے آواز سنی تو وہ دوڑ کر اندر آئی اور اس نے دیکھا کہ اس نے اپنی ماں کا کان دانتوں سے کاٹ لیا ہے اور اس کا تمام جسم اور کپڑے خون سے لت پت ہیں۔یہ نظارہ دیکھ کر پولیس کے آدمیوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ تجھ سے بڑا ظالم اور کون ہوگا کہ تو نے موت کے وقت اپنی والدہ سے اتنی ظالمانہ حرکت کی۔پھر اگر پھانسی سے بڑھ کر کوئی اور سزا ہوتی تو تم اس کے قابل تھے۔اس پر اس نے کہا، تمہیں کیا پتہ پھانسی کی سزا در اصل مجھے میری والدہ نے ہی دلائی ہے۔بچپن میں مجھے عادت تھی کہ میں سکول جاتا تو کسی لڑکے کی پنسل یا دوات چرا لاتا اور گھر آکر والدہ کو دے دیتا۔جب پنسل اور دوات کے مالک گھر آتے تو بجائے اس کے کہ وہ مجھے ڈانتی، الٹا آنے والوں سے لڑنا شروع کر دیتی اور کہتی کہ میرا بچہ چور نہیں، حالانکہ اسے علم ہوتا تھا کہ میں وہ چیزیں چرا کر لایا ہوں۔اس پر میں دلیر ہو گیا اور بڑی بڑی چوریاں شروع کر دیں۔لیکن میری والدہ ان پر بھی پردہ ڈالتی رہی۔پھر میں نے چوروں کی صحبت اختیار کی اور گھروں کو لوٹنا شروع کیا۔لیکن اس وقت بھی میری والدہ کو خیال نہ آیا کہ وہ مجھے منع کرے۔وہ ہر دفعہ میرے قصور کو چھپانے کی کوشش کرتی اور اگر کوئی شخص آکر پوچھتا تو اس سے لڑتی اور کہتی کہ میرالڑ کا چور نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک 590