تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 588

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 02 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم حالانکہ وہ ابھی آٹھ جوان ہے۔جس طرح اسے نو کے لفظ سے غلطی لگ گئی اور اس نے اسے نو کا ہندسہ قرار دے دیا تھا، اسی طرح جدید کے لفظ سے ہمارے مخالف بھی اس تحریک کو کوئی نئی تحریک سمجھنے لگ گئے ہیں۔عربی میں بھی ایک لطیفہ مشہور ہے۔ایک بادشاہ دورہ کرتے ہوئے ، ایک گاؤں کے پاس سے گزرا۔اس نے پوچھا کہ اس گاؤں کا کیا نام ہے؟ اسے بتایا گیا کہ اس کا نام قسم“ ہے۔اور عربی زبان میں 'ق م“ کے معنی ہوتے ہیں، کھڑا ہو جا۔اسے یہ نام بہت پسند آیا۔اس نے فوراً ایک کاغذ پر یہ حکم لکھ کر شہر کے قاضی کو بھیج دیا کہ یا قاضی القم عزلتك فقم یعنی اے قم کے قاضی تو کھڑا ہو جا اور یہاں سے نکل جا۔میں نے تجھے معزول کر دیا ہے۔جب اس کی معزولی کی خبر لوگوں میں مشہور ہوئی تو انہوں نے دریافت کی کیا کہ یہ حکم کس قصور کی بناء پر نافذ ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ میرا قصور تو کوئی نہیں۔صرف اتنی سی بات ہے کہ بادشاہ کو یہ قافیہ پسند آ گیا ہے، اس نے یہ حکم لکھ کر مجھے بھیج دیا۔تو بعض نام بھی اپنے اندر ایک بجو بہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔یہی حال تحریک جدید کا ہے۔اگر اس پر دو ہزار سال بھی گزر جائیں تب بھی اس کا نام تحریک جدید ہی رہے گا۔حالانکہ یہ پرانی چیز ہو گی۔پس اس نام سے دوسرے مسلمانوں کو چڑنے کی ضرورت نہیں۔اور پھر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ، اس کا مقصد یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کرنا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو کلمہ پڑھایا جائے تو اس میں مسلمانوں کے لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔بہر حال جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔اور ساتھ ہی دعاؤں سے بھی کام لیں۔کیونکہ ہمیں کیا پتہ ہے کہ دوسروں کے دلوں میں کیاز ہر بھرا ہوا ہے اور انہیں کیا کچھ دھو کہ دیا گیا ہے؟ مثلاً اسی واقعہ کو ہی ہے لو۔اس کا مجھے اتفاقا پتہ لگ گیا۔اور پتہ بھی ایک ایسے شخص سے لگا، جو جماعت کا نمبر نہیں۔ہاں، وہ منصف مزاج ہے اور ہر بات کو صیح نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔اگر میں وہاں نہ جاتا اور وہ افسر مجھے نہ ملتے تو اس بات کا مجھے علم نہ ہوتا۔پس جوز ہر دوسروں کے دلوں میں بھرا ہوا ہے، اس کا علاج سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔اس لئے آپ لوگ دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ آپ کے راستہ سے ہر قسم کی روکوں کو دور کرے۔اور وہ آپ کو اس طرح کام کرنے کی توفیق دے کہ آپ کسی کا دل دکھانے کا موجب نہ بنیں بلکہ لوگوں کی دلجوئی اور دنیا میں امن قائم کرنے کا موجب بنیں۔اور یہ بات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے، آپ کے اختیار میں نہیں۔کیونکہ وہی دلوں کے بھید جانتا ہے اور اگر وہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 15 مارچ 1956ء ) 588