تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 573

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1955ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلدسوم روک سکتا۔مگر دنیا کی محبت انسان کو بعض دفعہ تو بہ کا موقع بھی نہیں دیتی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ توبہ کا۔انسان کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی نبی کو گالیاں دیتا ہے لیکن پھر تو بہ کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیتا ہے۔پھر وقف تو ڑنا کون سا ایسا گناہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ معاف نہیں کر سکتا؟ یقینا وہ یہ گناہ بھی معاف کر سکتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ گوتو بہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، لیکن جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے لئے تو بہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی لئے میں نے واقفین زندگی سے کہا ہے، وہ دعاؤں کی عادت ڈالیں۔اور جماعت سے میں کہتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہوں پر تحریک جدید کے نئے سال کے وعدے لکھوائیں۔کراچی کی جماعت اول تو ایک ایک ماہ تک وعدوں کے متعلق کوئی اطلاع ہی نہیں بھیجتی اور اگر ایک ماہ کے بعد ان کا کوئی خط آتا ہے تو یہ کہ وہ اگلے سال کا چندہ وصول کر رہے ہیں۔حالانکہ امام کی اطاعت ہی اصل چیز ہے۔امام اگر وعدے لکھوانے کے لئے کہتا ہے تو چندہ کی وصولی بھی بے شک کرو، لیکن زیادہ زور وعدوں کے لکھانے پر دو۔ویسے جماعت کراچی مخلصین کی جماعت ہے۔جماعت کے امیر چودھری عبد اللہ خان صاحب کو خدا تعالیٰ نے احمدیت کے لئے اخلاص بخشا ہے اور ان پر مزید فضل یہ کیا ہے کہ انہیں عمدہ نائبین عطا کئے ہیں۔جب بھی ہمیں جماعت احمد یہ کراچی سے کوئی کام ہوتا ہے، انہیں صرف تار یا چٹھی بھیج دینا ہی کافی ہوتا ہے۔تاریا چٹھی کے پہنچتے ہی وہ دیوانہ وار اس کام میں لگ جاتے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس سال پچھلے سال کی طرح غلطی نہیں کریں گے۔وہ وعدوں کی وصولی بے شک کریں لیکن زیادہ زور پہلے وعدے لکھوانے پر دیں۔میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہمیشہ نومبر کے آخر میں کیا کرتا تھا۔لیکن اس دفعہ میں نے اس کا ابھی سے اعلان کر دیا ہے۔جماعتیں کوشش کریں کہ نومبر کے آخر تک اکثر دوستوں سے وعدے لکھوائیں۔گزشتہ سالوں میں چونکہ یہ طریق رائج رہا ہے کہ وعدے مارچ کے مہینہ تک قبول کئے جاسکتے تھے، اس لئے جو کمی رہ جائے گی ، وہ دسمبر کے مہینہ یا اس کے بعد بھی پوری ہو جائے گی۔مگر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وعدے ڈیوڑھے، دگنے، چار گنے بلکہ پانچ گئے ہو جائیں۔اگر ہر سال جماعت بڑھتی چلی جائے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں۔میں سمجھتا ہوں، دوست اگر ایمان اور اخلاص سے وعدے لکھوائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمادے گا۔بلکہ دوسرے لوگ بھی اس کام میں جماعت کی مدد کریں گے۔میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے کہ بعض غیر احمدی بھی اسلام کی خدمت کے لئے بڑی لجاجت سے چندہ دیتے ہیں۔ان کے دلوں میں بھی ایمان ہوتا ہے، اس لئے جب وہ اسلام کی خدمت کے متعلق کوئی 573