تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 572

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 28 اکتوبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک اب تم دیکھ لو کہ اس شخص کا یہ خیال کس قدر جھوٹا تھا کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کے لئے آجائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی خدمت کے لئے وقف تھا۔آپ نے یہ بھی نہیں کہا کہ میں فلاں تعلیم حاصل کرلوں ، تب میں اسلام کی خدمت کروں گا۔پھر میں کیسے مان لوں کہ کوئی شخص اپنے اس قول میں سچا ہے کہ میں پہلے بیرسٹر بن لوں ، تب دین کی خدمت کروں گا ؟ وہ شخص اپنے قول میں یقیناً جھوٹا ہے۔مگر یا درکھو، یہ چیز بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، اپنے زور سے حاصل نہیں ہوسکتی۔میں اپنے گھر میں دیکھتا ہوں کہ میاں بشیر احمد صاحب نے شروع سے ہی اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔ایم۔اے کرنے کے بعد وہ اب تک دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور شروع دن سے ہی انہوں نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔میاں شریف احمد صاحب بھی میرے بھائی ہیں لیکن انہوں نے دین کی خدمت کی طرف کم توجہ کی ہے۔وہ دین کی خدمت سے بھاگے تو نہیں ، جو کام انہیں دیا گیا ، وہ سرانجام دیتے رہے۔لیکن میاں بشیر احمد صاحب کی طرح انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف نہیں کی۔لیکن خدا تعالیٰ کا فعل دیکھو، جہاں میاں بشیر احمد صاحب کی اولاد کو دین کی طرف توجہ نہیں ، وہاں میاں شریف صاحب کی اولاد میں دین کی خدمت کا جذبہ پایا جاتا ہے اور وہ احمدیت کے لئے ایک نگی تلوار ہیں۔ان کے لڑکوں میں سے ایک تو تجارتی کمپنی میں کام کرتا ہے اور باقی لڑکے دوسرے کام کرتے ہیں۔لیکن جہاں تک میر اعلم ہے، وہ جس جس جگہ بھی کام کرتے ہیں، محبت اور پیار سے دوسروں کو حق پہنچاتے ہیں۔اور جہاں قانون کی اجازت کے ماتحت وہ مقامی انجمنوں کی امداد کر سکتے ہیں، وہاں ان کے ساتھ شامل ہو کر انہیں صحیح طور پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور فتنوں کو دور کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔میاں بشیر احمد صاحب کا صرف ایک بیٹا تبلیغ کی طرف توجہ رکھتا ہے اور وہ منیر احمد ہے۔بچپن میں تو ہم اسے کمزور خیال کرتے تھے لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ وہ احمدیت کی تبلیغ کرنے والا نوجوان ہے۔پس دین کی خدمت کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے، ورنہ نہیں۔اسی لئے میں نے واقفین زندگی کو تحریک کی ہے کہ وہ رات دن دعاؤں میں لگے رہیں۔کیونکہ جب تک عمل کی توفیق نہ ملے ، خالی قول مفید نہیں ہوتا۔ہم دیکھتے ہیں، کئی واقفین زندگی وقف سے بھاگ جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ، ہمیں معاف کر دیں، اب ہم دین کی خدمت سے نہیں بھاگیں گے۔لیکن کچھ دیر خدمت کرنے کے بعد وہ پھر بھاگ جاتے ہیں۔بے شک تو بہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے اور کوئی شخص کسی کو تو بہ کرنے سے نہیں 572