تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 574

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اسکیم سنتے ہیں تو وہ اس میں مدد دینے کے لئے فورا تیار ہو جاتے ہیں۔پس دوسرے لوگوں میں بھی اس چندہ کی تحریک کرو اور پھر دعائیں کرو۔خصوصاً واقفین زندگی دعاؤں کی عادت ڈالیں تا خدا تعالیٰ انہیں بھی ایمان دے اور باقی لوگوں کا بھی حوصلہ بڑھائے۔پھر ہر ایک مبلغ یہ عہد کرے کہ وہ سال میں ایک احمدی بنالینے پر فخر نہیں کرے گا، بلکہ وہ کوشش کرے گا کہ سینکڑوں نہیں، ہزاروں افراد احمدیت میں داخل ہوں۔اگر وہ ایک احمدی بنا لینے پر فخر کرے گا تو وہ بے ایمان ہوگا۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے، جب بھی مجھے کوئی ضرورت پیش آئی ہے، اس نے اسے غیب سے پورا کیا ہے۔میں نے کسی سے کبھی مانگا نہیں۔ہاں اگر کوئی خوشی سے کوئی چیز پیش کرتا ہے تو میں اسے لے لیتا ہوں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بچپن میں، میں گھر سے باہر نکلا تو ایک دوست نے میرے ساتھ مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔میں نے بھی اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔اس نے میرے ہاتھ پر ایک چوٹی رکھ دی۔میں نے اس میں بڑی ذلت محسوس کی اور میں نے بڑبڑا کر کہا کہ میں یہ چوٹی نہیں لیتا۔اور گھر کی طرف بھاگ گیا۔گھر جا کر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیان کیا۔آپ نے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث سنائی کہ ما اعطیت بغیر استشراف نفسک فخذه بارک اللہ لک۔یعنی جو کوئی تجھے بغیر سوال کرنے کے کچھ دے تو اسے قبول کرلے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔اور فرمایا یہاں چونی کا سوال نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاما بتایا کہ وہ لوگوں کو وحی کرے گا کہ وہ میری مددکریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہی اس شخص کو وحی کی تھی اور وہ یہاں آیا تھا۔اس لئے تم نے اس چونی کے لینے سے کیوں انکار کیا ؟ تم کو تو اس چوٹی کی قدر کرنی چاہئے تھی۔پس جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے رات دن دعائیں مانگتا ہے تو خدا تعالیٰ دلوں کی کھڑکیاں کھول دیتا ہے۔پس تم دعائیں مانگو، لوگوں کے دلوں کی کھڑکیاں خود بخود کھل جائیں گی۔پھر سینکڑوں نہیں ، لاکھوں اور کروڑوں افراد ہر سال احمدیت میں داخل ہوں گے۔یوں تو دوسرے لوگ ہم پر اعتراض کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم افریقہ، امریکہ اور دوسرے تمام ممالک میں غیر مسلموں کو مسلمان بنا رہے ہیں اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت میں شامل کر رہے ہیں۔اس کے بعد جو شخص احمدیت کو سمجھ لیتا ہے، وہ ہمارے عقائد بھی اختیار کر لیتا ہے۔ورنہ جو شخص یہ کہتا 574