تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 557

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 21 اکتوبر 1955ء چاہئے کہ حمد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور کچھ وقت کے بعد آپ کی نعش مبارک کو دفن کر دیا رسول الی اللہ ہوگئے ہیں دیا جائے گا۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا، اسے یادرکھنا چاہئے کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔کیونکہ منتشر مسلمانوں کو جمع کر نیوالا انہیں دین کی طرف واپس لانے والا اور تا ابد زندہ رہنے والا ہمارا خدا اب بھی موجود ہے، اس لئے انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اب 1300 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن اب بھی اللہ تعالیٰ دنیا میں ایسے لوگ کھڑے کرتارہتا ہے، جو منتشر مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرتے اور انہیں یہ نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ من كان يعبد محمداً فان محمد اقدمات ومن كان يعبد الله فان الله حتى لا يموت۔اس آواز پر لوگ پھر جمع ہو جاتے اور اسلام کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابو بکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے منتشر لوگوں کو اکٹھا کیا، پھر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے، اس کے بعد حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور ان کے بعد حضرت علی کھڑے ہوئے۔ان کے بعد متعدد بزرگ آئے اور انہوں نے اسلام کی خدمت کی روح کو تازہ رکھا۔مثلاً حضرت امام ابو حنیفہ کھڑے ہوئے ، حضرت امام شافعی کھڑے ہوئے ، حضرت جنید بغدادی کھڑے ہوئے شیلٹی کھڑے ہوئے حسن بصری گھڑے ہوئے، خواجہ معین الدین صاحب چشتی کھڑے ہوئے، سید عبدالقادر جیلانی صاحب کھڑے ہوئے ، شہاب الدین صاحب سہروردی کھڑے ہوئے، بہاء الدین صاحب نقشبندی گکھڑے ہوئے ، شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کھڑے ہوئے ، نظام الدین صاحب اولیاء کھڑے ہوئے ، قطب الدین صاحب بختیار کا کی گھڑے ہوئے، شیخ فرید الدین صاحب شکر بیج کھڑے ہوئے۔ان کے علاوہ اور ہزاروں بزرگ دنیا کے مختلف علاقوں میں کھڑے ہوئے، جنہوں نے لاکھوں انسانوں کو اسلام میں داخل کیا اور ان کی بدولت آج کروڑوں مسلمان صغیر ہستی پر موجود ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے حضرت ابو بکر کی نقل میں یہ کہا کہ من كان يعبد محمداً فان محمد اقدمات ومن كان يعبد الله فان الله حی لایموت۔انہوں نے حضرت ابو بکر کے منہ سے نکلے ہوئے ، اس اہم نکتہ کو یا درکھا۔باوجود یکہ ان میں سے کسی کے زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات پائے ، ایک ہزار سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور کسی کے زمانہ میں اس پر گیارہ سو سال گزر چکے تھے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے گا لیکن دنیا میں ابھی تھوڑے ہی مسلمان تھے کہ آپ فوت ہو گئے۔بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان تھوڑے سے نہ ہوتے تو ہمیں خدمت کا موقع 557