تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 534
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میرے پاس اس سفر میں ایک نو مسلم انگریز آیا اور اس نے کہا کہ میں بڑی کوشش کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں ، مگر مجھے پتہ نہیں لگتا کہ میں اس کے قریب ہو گیا ہوں یا نہیں؟ میں نے کہا، تمہاری اس خواہش کا انحصار تمہارے اس ایمان اور یقین پر ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا دروازہ تمہارے لئے بند نہیں۔بلکہ تم بھی اس کے انعامات کو اسی طرح حاصل کر سکتے ہو، جس طرح پہلے لوگوں نے حاصل کئے۔اگر تم سچے دل سے یہ یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کے انعامات کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں اور ہر ترقی تمہارے لئے ممکن ہے تو یہ ہوہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ تمہارے قریب نہ آئے۔وہ یقینا تمہارے لئے اپنے قرب کے دروازے کھول دے گا اور تم محسوس کرو گے کہ وہ تمہارے قریب آ گیا ہے۔جیسے تمہارے کمرہ میں اگر آگ جل رہی ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ تم اس آگ کے وجود سے انکار کر سکو۔کیونکہ اس کی گرمی تمہیں محسوس ہونے لگتی ہے۔اسی طرح اگر تم یقین رکھو کہ تمہارے لئے لامتناہی ترقیات کے دروازے کھلے ہیں اور تمہارا خدا بخیل نہیں تو یقیناً اس کا قرب تمہیں محسوس ہی نہیں ہوگا بلکہ تم اپنی روحانی آنکھوں سے اس کو دیکھنا شروع کر دو گے۔میرے اس جواب کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ نماز کے بعد کئی گھنٹے تک مسجد میں بیٹھا رہا اور اس نے کہا کہ مجھے اپنی ساری زندگی میں آج پہلی دفعہ یہ محسوس ہوا ہے کہ میرے لئے بھی ترقی کا راستہ کھلا ہے اور مجھے جو روحانی سرور اس سے حاصل ہوا ہے، وہ پہلے بھی حاصل نہیں ہوا۔اسی طرح تم بھی خدا تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرو اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرو۔یہ مت خیال کرو کہ اس کے تمام انعامات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئے ہیں یا مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہو گئے ہیں یا مجھ پر ختم ہو گئے ہیں۔اس کے انعامات کے دروازے تم سب کے لئے کھلے ہیں۔اگر تم ان دروازوں میں داخل ہو کر اس کے انعامات کو حاصل نہیں کرتے تو تم سے زیادہ بد قسمت اور کوئی نہیں۔لیکن اگر تم کوشش کرتے رہو اور اس کے انعامات پر یقین رکھو تو تم وہی کچھ حاصل کر سکتے ہو، جو سید عبدالقادر جیلانی اور شبلی اور معین الدین چشتی نے حاصل کیا۔تمہارا خدا بخیل نہیں اور نہ اس کی جیب میں کمی ہے۔اس کی جیب میں سارے درجے پڑے ہوئے ہیں۔اگر تم یقین اور ایمان کے ساتھ اس کی طرف بڑھو تو وہ معین الدین چشتی والا انعام اپنی جیب سے نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا۔وہ محی الدین صاحب ابن عربی والا انعام اپنی جیب سے نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا۔وہ ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی والا انعام نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا۔( مطبوعه روزنامه الفضل 22 اکتوبر 1955ء) 534