تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 533
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء کہنے لگیں کہ ابا جی کو جب آپ نے ناظر اعلی بنادیا تو وہ گھر میں بڑا افسوس کیا کرتے تھے کہ ہم نے تو اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کیا تھا اور انہوں نے کرسیوں پر لا کر بیٹھا دیا ہے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں، جو مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ واقف زندگی کی قدر ہونی چاہئے۔باہر سے آنے والوں میں سے کوئی وکیل اعلیٰ ہو جاتا ہے اور کوئی ناظر اعلیٰ ہو جاتا ہے اور ہم مبلغ کے مبلغ ہی رہتے ہیں۔حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے، جیسے خدا کہے کہ بندوں میں سے تو کوئی ترقی کر کے ہٹلر بن گیا اور کوئی نپولین بن گیا اور میں خدا کا خدا ہی رہا۔بھلا مبلغ سے بڑا اور کون سا مقام ہو سکتا ہے، جو تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔جو شخص سچا اور حقیقی مبلغ ہوتا ہے، وہ دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔جیسے ایمبیسیڈ راپنی اپنی حکومتوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کے وزراء ہز ایکسی لینسی نہیں کہلا سکتے لیکن ایمبیسیڈر هز ایکسی لینسی کہلاتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔اسی سفر میں ایک دن چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہنے لگے کہ میں جب تک وزارت خارجہ میں تھا ، ہز ایکسی لینسی نہیں کہلا سکا۔لیکن اب انٹر نیشنل کورٹ کا حج ہونے کی وجہ سے بائی رائٹ اپنے آپ کو ہز ایکسی لینسی لکھ سکتا ہوں۔جس طرح دنیا میں بعض لوگ حکومتوں کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے خاص عزت کے مستحق سمجھے تو جاتے ہیں ،اسی طرح مبلغ ہونا بھی ایک بہت بڑی عزت کا مقام ہے۔مبلغ سے کسی اور کو اونچا سمجھنا، ایسی ہی بے وقوفی کی بات ہے، جیسے کسی جج نے ایک شخص کو پھانسی کی سزادی تو وہ چیخ مار کر کہنے لگا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ مجھے موت کی سزا دے دیتے۔جیسے اس کا قول احمقانہ تھا، اسی طرح یہ بھی بے وقوفی کی بات ہے کہ مبلغ سے کسی اور کا مقام اونچا سمجھا جائے۔غرض خدا نے تمہارے لئے بڑی بڑی عزتیں رکھی ہیں۔تم خدا پر توکل کرو اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کرو۔وہ دینے پر آتا ہے تو وہ کچھ دے دیتا ہے کہ انسان اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ہم نے ساری عمر میں دنیوی قابلیتوں کے بغیر وہ کچھ علم حاصل کیا ہے، جو بڑی سے بڑی ڈگریاں رکھنے والوں کو بھی نہیں ملا۔اسی طرح مالی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہماری ایسے ایسے رستوں سے مدد کی ، جو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھے۔پس خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے تم اس کی طرف قدم اٹھاؤ۔اگر تم اس پر تو کل رکھتے ہوئے ، اس کی طرف اپنا قدم بڑھاؤ گے تو یقینا تمہارا خدا تم کو ضائع نہیں کرے گا۔وہ تمہارا ہاتھ پکڑلے گا اور تم محسوس کرو گے کہ تمہارا خدا تمہارے سامنے کھڑا ہے۔533