تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 527
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء سیٹھ عبد اللہ بھائی کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔اب تو پارٹیشن اور ہندوستانی گورنمنٹ کے مظالم کی وجہ سے ان کی تجارت ویسی نہیں رہی لیکن ساری عمران کی یہی کیفیت رہی کہ جو روپیہ بھی ان کے پاس آتا ، وہ اسے سلسلہ پر خرچ کر دیا کرتے اور ابھی بھی اسی رنگ میں قربانی کرتے جارہے ہیں۔پس بے شک ہماری جماعت میں ایسے افراد ہیں، جو مالی لحاظ سے سلسلہ کے کاموں میں غیر معمولی حصہ لیتے ہیں۔لیکن ان افراد سے جو سلسلہ کو فائدہ پہنچا ہے، کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک تصنیف کے بھی برابر ہے؟ یا سلسلہ کے قائم کرنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو وقت صرف کیا، اگر اس وقت کو سلسلہ کے لئے صرف کرنے کی بجائے آپ اپنے زمیندارہ کام میں لگ جاتے تو کیا سلسلہ کو اتنا ہی فائدہ پہنچتا، جتنا اب پہنچا ہے؟ یا میں ہی اگر اپنے زمیندارہ کام میں مشغول ہو جاتا تو میرے ذریعہ سلسلہ کو وہ فائدہ پہنچ سکتا تھا ، جواب پہنچا ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں نے زمیندارہ کام بھی کیا ہے۔لیکن جب زمینوں کا کام اتنا بڑھا کہ میں نے سمجھا ، اب اگر میں نے اس کی طرف توجہ کی تو سلسلہ کے کام کو نقصان پہنچے گا تو میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو بلوایا اور زمین کے کاغذات ان کے سپر د کر دیئے اور خود میرے پاس جتنا وقت تھا، وہ سارے کا سارا میں نے سلسلہ کے لئے وقف کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں یہ کام خود بھی چلا سکتا تھا۔مگر ان کے سپرد کرنے سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میں زمینوں کے کام سے فارغ ہو کر سلسلہ کے کاموں میں زیادہ تن دہی سے مصروف ہو گیا۔پھر سندھ کی زمینیں ملیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ملازموں سے کام لینے کی توفیق عطا فرما دی۔بے شک ملازموں پر کام کا انحصار رکھنے کی وجہ سے مجھے نقصان بھی ہوتا تھا۔لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ زیادہ وقت ادھر صرف کروں۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ سلسلہ کو میرے وقت کی زیادہ ضرورت ہے۔لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مجھے مالی لحاظ سے بھی سلسلہ کی خدمت کی توفیق عطا فرما دی۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح سیٹھ عبد اللہ بھائی اور بعض دوسرے دوستوں نے قربانی کی ہے اور سلسلہ کی غیر معمولی خدمت کی ہے، اسی طرح میں نے بھی کی ہے۔چنانچہ اب تک تحریک جدید میں، میں نے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ چندہ دیا ہے۔لیکن اگر وہ خطبات جو تحریک جدید کے لئے میں نے پڑھے ہیں، نہ پڑھتا اور صرف ساڑھے تین لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا تو ساڑھے تین لاکھ سے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام نہیں ہو سکتی تھی؟ یہ تبلیغ اسلام تو میرے وقف کی وجہ سے ہوئی ہے۔پس بے شک روپیہ بھی ایک قیمتی چیز ہے لیکن روپیہ کے باوجود پھر بھی وقف کی ضرورت ہوتی ہے۔پس وہ دوست جن کے دلوں میں میرے خطبہ کی وجہ سے وقف کی تحریک ہوئی ہے، ان سے میں کہتا ہوں کہ تم سوچو اور مشورہ لو۔مگر صرف انہی لوگوں سے مشورہ لو، جو تمہیں مشورہ دینے کے اہل ہوں۔527