تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 526
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔پر نو کروڑ روپیہ کی تھی۔اگر یہ نو کروڑ روپیہ ہم تجارت پر لگا دیتے تو اس سے کئی گنے زیادہ روپیہ ہم کما لیتے۔کیونکہ اصل چیز دماغ ہے، جس سے روپیہ کمایا جاتا ہے۔اور دماغی قابلیتیں اللہ تعالیٰ نے مجھ میں پیدا کی ہیں۔لیکن اگر فرض کرو میں یہ نو کروڑ کی جائیداد سلسلہ کو دے دیتا اور وہ کام نہ کرتا ، جو میں نے کیا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ نو کروڑ اس کام کے برابر ہو سکتے تھے؟ یا کیا وہ نو کروڑ کی جائیداد میری لکھی ہوئی تفسیر کے ایک صفحہ کے برابر بھی ہو سکتی تھی؟ میری تفسیر قرآن کا ایک صفحہ اس کروڑ سے ہزاروں گنا زیادہ قیمتی ہے اور ہزاروں گنے زیادہ فائدہ مند ہے۔پس مجھے تعجب ہوا کہ اس دوست نے یہ کیا بات کہی ہے؟ وہ دوست نہایت مخلص ہیں اور ساری عمر انہوں نے خدمت سلسلہ میں گزاری ہے۔مگر پھر وہ اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ روپیہ دینا بھی خدمت ہے۔بے شک ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں، جنہوں نے مالی لحاظ سے سلسلہ کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔لیکن جن لوگوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لئے وقف کر دیں اور رات اور دن وہ خدمت سلسلہ میں مصروف رہے، ان کے وجود سے ہمارے سلسلہ کو جو فائدہ پہنچا ہے، وہ روپیہ کے ذریعہ خدمت کرنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔مجھے یاد ہے، میری پندرہ سال کی عمر تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔ان دنوں جو ڈاک آیا کرتی تھی ، وہ آپ کی بیماری کی وجہ سے میں ہی آپ کو پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک منی آرڈر آپ کے نام آیا، جو - 180 روپیہ کا تھا۔اور ساتھ ہی خط تھا، جس میں لکھا تھا کہ یہ روپیہ چندے کا نہیں بلکہ حضور کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش ہے۔اس میں سے اسی روپے تو وہ ہیں ، جو ہمیشہ ماہوار حضور کو بھیجا کرتا ہوں اور سو روپیہ زائد اس لئے ہے کہ پہلے میری تنخواہ - 180 روپیہ تھی جس میں سے اسی روپے میں حضور کو نذرانہ بھجوادیا کرتا تھا۔اب مجھے یکدم سب انسپکٹر پولیس سے ترقی دے کر پراسیکیوٹنگ انسپکٹر بنادیا گیا ہے اور - 2801 روپے تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے یکدم یہ سو روپیہ جو ترقی ملی ہے محض حضور کے لئے ملی ہے۔اس لئے سوروپے، وہ جواب بڑھے ہیں اور اسی روپے وہ جو میں ہمیشہ بھیجا کرتا ہوں، حضور کی خدمت میں نذرانہ کے طور پر بھجوا رہا ہوں۔اور چونکہ خدا نے مجھے -180 سے -/280 روپیہ تک یکدم پہنچایا ہے اور یہ سو روپیہ کی زیادتی میرے لئے نہیں بلکہ حضور کے لئے ہے، اس لئے میں آئندہ بھی ہمیشہ - 180 روپیہ حضور کی خدمت میں بھجوایا کروں گا۔میں نے جب یہ خط پڑھا تو بڑا متاثر ہوا کہ ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے مخلص وجود پیدا کئے ہیں۔یہ چوہدری رستم علی صاحب تھے ، جو محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔اسی طرح میں نے کئی دفعہ 526